کسی مذہب پر پابندی نہیں لگائیں گے: ہیلری کلنٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکا کے صدر کے عہدے کے لیے سرکاری طور پر اپنی نامزدگی کو قبول کرتی ہیں۔ جمعرات کی شب اپنے خطاب میں انہوں نے باور کرایا کہ وہ کسی مذہب پر پابندی نہیں لگائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں امریکا اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ تمام امریکیوں کی صدر ہوں گی ، ان کو ووٹ دینے والوں کی بھی اور مسترد کر دینے والوں کی بھی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں "میری مرکزی ذمہ داری یہ ہو گی کہ میں بلند اجرتوں کے ساتھ روزگار کے مزید اور مستحکم مواقع پیدا کروں"۔

انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ امریکا کی ترقی متوسط طبقے کی ترقی کے ساتھ مربوط ہے۔

ہیلری کے مطابق " ہم اپنے ملک کو درپیش چیلنجوں سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں، تاہم ہم خوف زدہ نہیں ہیں۔ ہم چیلنجوں پر قابو پائیں گے جیسا کہ ہمیشہ کرتے رہے ہیں "۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ انفرادی طور پر کام کرے ، امریکا کو تمام امریکیوں کی ضرورت ہے"۔

سابق وزیر خارجہ نے ہجرت کے قوانین کی اصلاح ، طبی دیکھ بھال کے نظام کو جدید بنانے، اجرتوں کی کم سے کم سطح کو بلند کرنے اور جامعات میں داخلے کے نظام کو آسان بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ہیلری کلنٹن نے خبردار کیا کہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ " یہ چاہتے ہیں کہ ہم مستقبل سے خوف زدہ ہو جائیں"۔

انہوں نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے نامزدگی قبول کرنے کے خطاب میں ٹرمپ نے مسائل کے حل سے متعلق کچھ نہیں پیش کیا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں