ترکی کی مسلح افواج کے مزید قریباً 1400 اہلکار برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک حکومت نے امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق کے الزام میں مسلح افواج کے مزید 1389 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے اتوار کو ان برطرفیوں کی اطلاع دی ہے لیکن مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔یہ رپورٹ صدر طیب ایردوآن کے اس اعلان کے چند گھنٹے کے بعد منظرعام پر آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ مسلح افواج میں متعدد تبدیلیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان میں فوجی اکادمیوں کی بندش بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ فوج کو حکومت کے مضبوط کنٹرول میں لایا جائے گا۔

ترک حکام نے مبلغ فتح اللہ گولن پر 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور انھیں ہی تمام بغاوت کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے لیکن انھوں نے اس فوجی بغاوت میں کسی طرح ملوّث ہونے اور ترک جمہوریت کو کوئی نقصان پہنچانے کی تردید کی ہے۔اب ترکی امریکا سے انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترکی میں زندگی کے تمام شعبوں اور خاص طور پر فوج میں گولن تحریک کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور تطہیر کے اس عمل کے دوران گولن تحریک سے وابستہ فوجیوں،اعلیٰ عہدے داروں اور سرکاری ملازمین کو برطرف ،گرفتار یا معطل کیا جارہا ہے۔اب تک ہزاروں فوجیوں کو گرفتار یا معطل کیا جاچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں