یمن کے باغی سابق صدر کی دولت 25 ارب ڈالر سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کے اثاثوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ یمن کے ایک اقتصادی تجزیہ نگارنے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 1978ء سے 2011ء تک منصب اقتدار پر فائز رہنے والے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی کل دولت 25 ارب ڈالر سے زاید ہے۔

یمنی تجزیہ نگار ڈاکٹر عبدالکریم العواضی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں سابق صدر کے بیٹے کے اس بیان کو مسترد کردیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ ہمارے والد بزرگوار کی اصل دولت وہ کامیابیاں ہیں جو انہوں نے قوم کی خاطر حاصل کیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاکٹرعبدالکریم کا کہنا ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے اندرون اور بیرون ملک اثاثوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ وہ اپنے تیس سالہ دور اقتدار کے دوران قومی خزانے پر سانپ بنے رہے ہیں۔ جب سے یمن میں لڑائی شروع ہوئی ہے وہ مسلسل باغیوں کو اسلحہ فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس اسلحے سے حاصل ہونے والی کروڑوں ڈالر کی آمدن بھی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جیب میں جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کےدوران سابق صدر نے باغیوں کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سابق صدر کے ایک بیٹے خالد علی عبداللہ صالح نے فیس بک پر پوسٹ ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے والد کا اصل سرمایہ قوم کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ ان کے پاس دولت نہیں اور نہیں اور نہ ہی انہوں نے قومی خزانے کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

خالد صالح کے اس دعوے کے جواب میں ڈاکٹر عبدالکریم عواضی نے لکھا کہ علی عبداللہ صالح نے یمن میں موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنی میں 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یمن کے دو سرکاری بنکوں میں ان کی بھاری رقوم موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پیرس، لندن اور متعدد عرب ملکوں میں علی صالح کی دولت کا اندازہ 90 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

انہوں نے سابق یمنی صدر کی دولت کی تفصیلات کے بارے میں مزید بتایا کہ علی صالح نے ایک بحری بیڑاخریدا، افریقا کی ایک فضائی کمپنی میں سرمایہ کاری کی، عرب اور افریقی بنکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کیا اور 200 ملین ڈالر کا سونا جمع کرکے بیچا گیا۔ ڈاکٹر عواضی نے الزام عایدکیا کہ سابق صدر نے اپنے دور حکومت نے نہایت مقرب اور رشتہ دار کلیدی عہدوں پر تعینات کیے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ملنے والی عالمی امداد ہڑپ کی۔ ایک قریبی رشتہ دار کو پلاننگ اور عالمی تعاون کی وزارت سونپی گئی اور سوشل ڈویلپمنٹ بنک اس کے سپرد کیا گیا جس نے قومی خزانے کو ناقابل یقین نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 2000ء سے 2010ء تک علی صالح کے اثاثوں کی مالیت 14 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔ کسی معلوم نہیں کہ وہ رقم کہاں گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں