.

روس کے ساتھ ازسرِنو تعلقات استوار کرنا چاہتا ہوں : ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ بالکل نئے سرے سے تعلقات استوار کرنا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا دوبارہ آغاز چاہتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تاس کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔ان کا یہ انٹرویو سوموار کو شائع ہوا ہے۔وہ منگل کے روز روس کے سرکاری دورے پر جارہے ہیں اور سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات ہوگی۔

انھوں نے تاس کے ساتھ انٹرویو میں صدر پوتین کو بار بار ''پیارے'' اور ''محترم ولادی میر'' ایسے الفاظ سے یاد کیا ہے اور انھیں اپنا دوست قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ دورہ ہمارے دو طرفہ تعلقات میں ایک نیا سنگ میل ہوگا اور ہمیں ایک صاف تختی کی طرح نئے سرے سے تعلقات کا آغاز کریں گے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''روس ،ترکی تعلقات کا ایک نیا صفحہ کھولا جائے گا۔اس نئے صفحے میں فوجی ،اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا فروغ شامل ہوگا''۔

صدر پوتین اور ایردوآن کے درمیان ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ قریباً نو ماہ سے جاری سخت کشیدگی کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔واضح رہے کہ نومبر 2015ء میں ترکی کے ایف سولہ لڑاکا جیٹ نے شام کی سرحد کے نزدیک ایک روسی طیارے کو مار گرایا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

اس واقعے کے بعد روس نے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جن کے نتیجے میں ترکی آنے والے روسی سیاحوں کی تعداد میں 2016ء کی پہلی ششماہی کے دوران 87 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔دونوں صدور کی ملاقات میں توقع ہے کہ شامی تنازعے کے علاوہ دوطرفہ تجارت ،توانائی اور ترکی کے لیے روس کی چارٹر پروازوں کی بحالی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ان کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ترکی کے مغرب کے ساتھ 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں اور صدر رجب طیب ایردوآن امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف کم وبیش روزانہ ہی تندوتیز بیانات جاری کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ترک جمہوریت کے خلاف اس شب خون کے بعد سے کسی مغربی لیڈر نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور نہ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کی کارروائی میں جانیں قربان کرنے والوں کے خاندانوں سے کوئی افسوس کا اظہارکرنے یا انھیں پُرسا دینے آیا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور ترکی شام میں جاری تنازعے کے بارے میں ایک دوسرے کے برعکس موقف رکھتے ہیں۔ روس شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے اور اس کے لڑاکا طیارے اسدی فوج کی حمایت میں باغیوں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں جبکہ ترکی شامی صدر کا مخالف ہے اور وہ ماضی میں ان کی اقتدار سے رخصتی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ترکی اسدی فوج کے خلاف لڑنے والے شامی باغیوں کی دامے،درمے ،سخنے حمایت کررہا ہے۔