سعودی اور غیر ملکی سفیروں کو ہلاک کرنے کی ایرانی کوششیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں سعودی سفیر ثامر السبہان کی ایران کی پیروکار ملیشیاؤں کے ہاتھوں ہلاکت کی کوشش ناکام بنائے جانے کے انکشاف نے ، ایرانی نظام کی جانب سے سفیروں اور سفارت کاروں کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ یاد دلا دیا۔

اس سے قبل 2011 میں واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر عادل الجبیر کو بھی ہلاک کرنے کی کوشش کا انکشاف ہوا تھا۔ اس کوشش میں بھی ایرانی نظام کا ملوث ہونا ثابت ہوا تھا۔ نیویارک کی عدالت نے اس سازش میں شریک دو افراد منصور ارباب سیار اور غلام شکوری کے ناموں سے پردہ اٹھایا تھا۔ منصور کو گرفتار کرنے کے بعد 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ غلام شکوری جو کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا افسر ہے وہ اس وقت ایران میں موجود ہے اور امریکی عدلیہ کو مطلوب ہے۔

ایران 1989-90 کے عرصے کے دوران تھائی لینڈ میں چار سعودی سفارت کاروں کی ہلاکت میں ملوث رہا۔

2011 میں کراچی میں سعودی سفارت کار کے قتل کے پیچھے بھی ایرانی نظام کا ہاتھ تھا۔

1985 میں عراقی حزب الدعوہ اور لبنانی حزب اللہ کے پیروکار گروپوں نے ایرانی ایماء پر اس وقت کے امیر کویت الشيخ جابر الاحمد الصباح کے قافلے کو دھماکے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے نتیجے میں دو فوجی اہل کار اور دو خلیجی باشندے جاں بحق ہو گئے تھے۔

1989 میں ایرانی نظام نے لبنان میں متعدد امریکی سفارت کاروں کو اغوا اور قتل کرا دیا۔

2012 میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں امریکی ذمہ داران اور سفارت کاروں کو ہلاک کرنے کے منصوبے کا انکشاف ہوا۔ منصوبے کے پیچھے آذربائیجان میں ایران نواز ایک شیعہ تنظیم کا ہاتھ تھا جو ایرانی پاسداران انقلاب کے حکم پر عمل پیرا رہتی تھی۔

ایرانی نظام سفارتی مشنوں کی بے حرمتی کا بھاری بھرکم ریکارڈ رکھتا ہے۔ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا گیا اور وہاں موجود افراد کو 444 روز تک یرغمال بنا کر رکھا گیا۔ اس کے بعد 1987 میں سعودی اور کویتی سفارت خانوں ، 1988 میں روسی سفارت خانے، 2007 میں کویتی سفارت کار، 2009 میں پاکستانی سفارت خانے، 2011 میں برطانوی سفارت خانے اور آخری واقعے میں 2016 میں تہران میں سعودی سفارت خانے مشہد میں اس کے قونصل خانے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

1983 میں بیروت میں امریکی سفارت خانے پر دھماکا کیا گیا۔ ایرانی منصوبہ بندی سے حزب اللہ کی اس کارروائی میں 63 افراد مارے گئے تھے۔

1983 میں ہی پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے ایک ایرانی شہری نے ایران کی ایماء پر بیروت میں امریکی میرینز کے ہیڈکوارٹر کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ کارروائی میں 241 امریکی میرینز اور امریکی شہری ہلاک ہوئے جب کہ 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

1983 میں لبنانی حزب اللہ اور ایرانی نواز عراقی شیعہ حزب الدعوہ کے ارکان نے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں کویت میں امریکی اور فرانسیسی سفارت خانوں کے علاوہ ایک آئل ریفائنری اور ایک رہائشی علاقے کو لپیٹ میں لیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 5 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔

1989 میں ویانا میں ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالرحمن قاسملو اور ان کے نائب عبداللہ آذر کو قتل کردیا گیا جب کہ وہ ایران سے آئے ہوئے وفد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر تھے۔

1991 میں پیرس میں ایرانی پاسداران انقلاب نے شاہ ایران کے دور میں آخری وزیراعظم شہپور بختیار کو ہلاک کردیا۔ کارروائی میں ایک فرانسیسی سیکورٹی اہل کار اور ایک فرانسیسی خاتون بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

1992 میں برلن میں ایران کی جانب سے ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سکریٹری جنرل صادق شرفکندی اور ان کے تین ساتھیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

1991 میں مئی کی تین تاریخ کو ایران نے بغداد میں احوازی عرب محاذ کے سکریٹری جنرل حسین ماضی کو ہلاک کروا دیا۔

24 اپریل 1990 کو ایران نے اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق کے سربراہ مسعود رجوی کے بھائی کاظم رجوی کو موت کی نیند سلا دیا۔ 22 جون کو سوئس جج نے اعلان کیا کہ ایران حکومت کے 13 ذمہ داران اس کارروائی پر عمل درامد کے لیے "سفارتی" پاسپورٹوں پر تہران سے جنیوا آئے تھے۔

جنوری 2013 میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایرانی انٹیلجنس اداروں کا ایک نیٹ باقاعدہ نیٹ ورک ہے جو دنیا بھر میں ہلاکتوں کی کارروائیاں کرنے اور ملک میں حزب اختلاف کو کچلنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ یہ نیٹ ورک ہزاروں انٹیلجنس ارکان پر مشتمل ہے۔

پینٹاگون اور کانگریس کی مشترکہ تحقیق نے تصدیق کی ہے کہ دنیا بھر میں تہران کے 30 ہزار کے قریب انٹیلجنس اہل کار موجود ہیں۔ امریکی سی آئی اے کے ایک سابق افسر روئل مارک کے مطابق ایرانی انٹیلجنس کی خطرناک ترین کارروائیاں ہلاکتوں کی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ گزری دہائیوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ لوگ دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کا نیٹ ورک قائم کر چکے ہیں اور خود کو پیچھے رکھ کر اپنے ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہیں۔

روئل مارک نے اس رپورٹ میں باور کرایا کہ "القدس فورس" ایرانی پاسداران کے پیروکار یونٹ کے طور پر اس وقت شام کے اندر بشار الاسد کی فورسز کو سپورٹ کرتے ہوئے اسی نوعیت کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی رکن پارلیمنٹ پیٹر کنگ کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام اقوام متحدہ میں اپنے سفارتی مشن اور اسی طرح واشنگٹن میں اپنے سفارتی دفتر میں بھی جاسوسوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

پیٹرکنگ نے ایرانی سفارت کاروں کے خلاف انتقامی اقدامات کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم پر لازم ہے کہ امریکا میں ان سب سے یا ان میں سے کچھ سے جان چھڑا لیں اور ان کو نکال دیں تاکہ ان لوگوں کو ایک واضح اشارہ دیا جا سکے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں