.

پاکستان دوسروں سے مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے : جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے نئی دہلی میں پاکستان پر زوردیا ہے کہ اس کو دوسری قوموں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی چاہیے اور اس کو آیندہ ماہ امریکا ،بھارت اور افغانستان کے درمیان نیویارک میں مذاکرات سے تنہائی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

انھوں نے نئی دہلی میں امریکا اور بھارت کے درمیان تزویراتی مذاکرات کے دوران افغان امن اقدام کا اعلان کیا ہے۔ان کی اپنے میزبان ملک کے لیے حمایت بھی امریکا کی پاکستان اور بھارت کے حوالے سے غیر جانبداررہنے کے موقف میں تبدیلی کی مظہر ہے۔

جان کیری نے منگل کے روز بھارتی دارالحکومت میں نیوز کانفرنس کے دوران دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ممبئی میں 2008ء میں دہشت گردی کے حملے اور مشرقی پنجاب کے ایک ہوائی اڈے پر جنوری میں حملے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

انھوں نے واضح کیا:'' ہم اچھے یا بُرے دہشت گردوں میں کوئی تمیز نہیں کرسکتے اور نہ کریں گے۔دہشت گردی ،دہشت گردی ہے خواہ یہ کہیں سے بھی ہو اور کوئی بھی یہ کرے''۔

بھارت نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی تنظیموں پر ممبئی حملوں میں ملو٘ث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور ان میں ملو٘ث بعض مشتبہ افراد کے خلاف پاکستان میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔تاہم اس سال ائیربیس پر حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔

بھارت کی وزیر برائے امور خارجہ سشما سوراج نے اس موقع پر دہشت گردی کے حوالے سے اسی لب ولہجے سے بات کی اور کہا کہ ان میں اور جان کیری میں دہشت گردی کے بارے میں ذہنی یکسانیت پائی جاتی ہے۔انھوں نے دہشت گردی کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ امریکا آیندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سہ فریقی مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ان کا مقصد افغانستان کو مستحکم کرنا ہے جہاں اس وقت امریکا اور مغربی ممالک کی حمایت یافتہ حکومت طالبان مزاحمت کاروں سے نبرد آزما ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان اتحاد میں پائی جانی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ بھارت کی ان مذاکرات میں شرکت سے ان کوششوں کو تقویت ملے گی اور افغان لیڈروں کو ایک مستحکم اور متحدہ افغانستان کی ضرورت واہمیت کا احساس دلایا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا:'' مجھے امید ہے پاکستان اس عمل سے تنہائی کا شکار نہیں ہوا ہے بلکہ اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔میں نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں نوازشریف سے کسی بھی گروپ کو پناہ سے محروم کرنے کے حوالے سے بات کی ہے۔پاکستان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرے''۔

جب سشما سوراج سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا تو انھوں نے کہا:'' یہ بھارت نہیں ہے جو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو جنم دے رہا ہے۔ہم نے انھیں بتایا ہے کہ ہم مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن انھوں نے ایسے کام کیے ہیں جس سے ہم مذاکرات معطل کرنے پر مجبور ہوگئے۔ہم کم سے کم یہ توقع کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔بات چیت اسی وقت ہوسکتی ہے،اگر ان کی جانب سے کوئی اقدام ہو''۔