داعش ترکی اور شام کے درمیان سرحدی علاقے سے بے دخل
ترک فورسز اور ان کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے داعش کو ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے علاقے سے بے دخل کردیا ہے اور اس طرح ان کا بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ ''داعش اپنے زیر قبضہ سرحدی دیہات چھن جانے کے بعد اب بیرونی دنیا سے اپنا زمینی رابطہ بھی کھو بیٹھے ہیں''۔
اس اطلاع کے مطابق ''شامی باغیوں اور اسلام پسند دھڑوں نے ترک فوج کے ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی مدد سے سرحد پر واقع متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور داعش کے جنگجو وہاں سے پسپا ہو گئے ہیں۔اب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے میں داعش کا کوئی وجود نہیں رہا ہے''۔
ترکی کے ساتھ واقع یہ سرحدی علاقہ چھن جانے کے بعد اب داعش کمک بہم پہنچانے اور نئے غیرملکی جنگجوؤں کی آمد کے زمینی راستے سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ البتہ اس گروپ کا شام اور عراق کے دوسرے علاقوں پر کنٹرول برقرار ہے۔
ترکی شام کے سرحدی علاقے میں 24 اگست سے''فرات کی ڈھال'' کے نام سے داعش اور شامی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور اس کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے سرحدی شہر جرابلس کے علاوہ متعدد دیہات اور قصبوں پر داعش کو شکست دینے کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔
ترک فورسز کی شامی علاقے میں مداخلت کے بعد سے داعش کو مسلسل پسپائی کا سامنا ہے جبکہ کرد ملیشیا وائی پی جی نے بھی اب اپنی جنگی کارروائیوں اور پاؤں پھیلانے کے سلسلے کو محدود کردیا ہے۔