.

ایردوآن، پوتین اور اوباما کی دو تصویریں اور دو کہانیاں!

ترکی کے روس اور امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سربراہان مملکت کی عالمی کانفرنسیں ہر سال ہوتی ہیں، ان میں ہونےوالے فیصلے، معاہدے اور سمجھوتے کہیں دفاتر کی فائلوں میں کھو جاتے ہیں مگر ان کانفرنسوں کی کچھ تصاویر ذرائع ابلاغ میں چھپنے کے بعد یادگار بن جاتی ہیں، آنے والے ان تصویروں کی روشنی میں ماضی میں جھانک کر ملکوں کے اتارو چڑھاؤ کا پتا لگاتے ہیں۔

چار اگست 2016 کو چین کی میزبانی میں 20 عالمی معاشی طاقتوں کی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس سے پہلے سنہ 2015ء میں ترکی کے شہر انطاکیہ میں ایک سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ ان دونوں کانفرنسوں میں امریکی صدر باراک اوباما، روس کے صدر ولادی میر پوتین اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ مگر بات یہاں نمایاں دکھائی دینےکی بھی نہیں بلکہ دونوں تصاویر میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن توجہ کا مرکز ہیں۔

سنہ 2015ء میں ترکی اور 2016ء میں چین میں ہونے والی ’جی 20‘ سربراہ کانفرنس میں عالمی رہ نماؤں کے گروپ فوٹو میں ایک جگہ ایردوآن باراک اوباما کے ساتھ محو گفتگو ہیں اور کچھ فاصلے پر کھڑے صدر پوتین’ترسی نگاہوں‘ سے انھیں دیکھ رہے ہیں۔ یہ تصویر سنہ 2015ء کی انطاکیہ کانفرنس کی ہے جس میں صدر رجب طیب ایردوآن کو اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما کے ساتھ خوش گوار موڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب روس اور ترکی کے درمیان شام کی جنگ میں بشار الاسد کی حمایت اور مخالفت کے معاملے پر سرد مہری پائی جا رہی تھی۔ مگر چند ماہ بعد جب ترکی نے شام کی سرحد کے قریب روس کا ایک بمبار طیارہ مار گرایا تو ماسکو اور انقرہ کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوگئی اور سفارتی تعلقات تک متاثر ہوئے تھے۔

رواں سال جب ترکی میں وسط جولائی کو فوج کے ایک گروپ نے منتخب صدر ایردوآن کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کی تو اس پرعالمی برادری کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا اس میں امریکا اور روس کا موقف بھی شامل تھا۔ ترکی میں بغاوت کی ناکام سازش نے ایردوآن کی امریکی قربت میں دراڑ پیدا کردی اور ساتھ ہی روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی راہ بھی ہموار کی۔

ترکی اور امریکا میں کشیدگی اس لیے پیدا ہوئی کہ انقرہ نے الزام عاید کیا کہ بغاوت کی سازش امریکا میں تیار کی گئی اور امریکی ریاست پنسلوینیا میں مقیم ترک مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن اور ان کی جماعت بغاوت کی منصوبہ ساز ہے، جسے امریکا کی سرپرستی حاصل ہے۔ جب کہ دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پوتن نے اختلافات کے باوجود صدر ایردوآن کی حمایت کا اعلان کیا۔ ترکی نے بھی جواب میں طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے پر ماسکو سے معذرت طلب کی اور یوں معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

حال ہی میں جب چین کے شہر ہانگ زو میں جی ٹوئنٹی کانفرنس میں عالمی رہ نماؤں کا گروپ فوٹو بنایا گیا تو اس میں صدر ایردوآن کو روسی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کرتے دکھایا گیا۔ اسی قطار میں ایردوآن کے ساتھ جرمن چانسلر اور چینی صدر کھڑے ہیں اور ان کے بعد صدر اوباما دکھائی دے رہے۔ تصویر میں صدر اوباما کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ٹیڑھے ہو کر پوتین اور ایردوآن میں جاری بات چیت بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں۔



ان دونوں تصویروں میں ایردوآن روس اور امریکا کی توجہ کے مرکز ہیں۔ پرانی تصویر میں ایردوآن باراک اوباما اور نئی میں روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ محو گفت وشنید ہیں۔ ایک تصویر میں پوتین دور سے انھیں دیکھ رہے ہیں اور دوسری تصویر میں اوباما اس کیفیت سے دوچار ہیں۔

اوباما کا تجسس

روس اور امریکا دو بڑی عالمی طاقتیں ہیں۔ اگرچہ دونوں کے سربراہان کئی مواقع پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ باہمی تعاون کےفروغ کے اعلانات بھی کرتے ہیں مگر جب وہی رہ نما کسی دوسرے ملک کے سربراہ سے ملاقات کرتے ہیں تو اس پردوسرے تجسس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

سوشل میڈیا ایردوآن، اوباما اور پوتین کی مذکورہ تصاویر تبصروں کی زد میں ہیں۔ کہیں تو مزاحیہ اور طنزیہ تبصرہ آرائی جاری ہے اور کہیں اوباما کے انداز کو ’تجسس‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اوباما اور پوتن کے ساتھ ایردوآن کی دو الگ الگ مواقع پر لی گئی تصاویر ملکوں کےدرمیان تعلقات کے اتارو چڑھاؤ کا پتا دیتی ہیں۔