.

حج نے بچھڑے فلسطینی خاندان کو17 سال بعد ملا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ستم رسیدہ فلسطینیوں کی المناک داستانوں میں شہادت اور اسیری کے ساتھ جلاوطنی اور غریب الوطنی کا عذاب بھی شامل ہے جس نے ان گنت فلسطینی خاندانوں کو منتشر کرکے افراد خانہ کو ایک دوسرے سے دور کررکھا ہے۔

ایسے ہی ایک کتھا لبنان کے البداوی نامی فلسطینی پناہ گزین کیمپ کی رہائشی ام سلیمان اور اس کے خاندان کی ہے جو سترہ سال اپنے بہن بھائیوں سے دور رہی مگر رواں سال حج نے بچھڑے خاندان کو آپس میں ملا دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس منفرد واقعے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ ام سلیمان اپنے خاندان سے کیسے جدا ہوگئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ام سلیمان جن کا اصل نامہ الحاجہ نجبیہ حسن نطفی ہے نے کئی سال قبل مزاحمتی فلسطینی کمانڈر کے ساتھ شادی کی۔ فدائی کےساتھ شادی کرتے ہی ان کا خاندان لبنانی حکام کے زیرعتاب آگیا۔ جس پر انہیں لبنان چھوڑ کر یمن کا سفر کرنا پڑا۔

یمن جانے کے بعد ام سلیمان البداوی کیمپ میں موجود اپنے دیگر بہن بھائیوں کی کمی کو بہت زیادہ محسوس کرنے لگی مگر اس کے شوہر اور بچوں کی لبنان واپسی ممکن نہ تھی۔ وہ صرف انٹرنیٹ یا فون کے ذریعے اپنے اہل خانہ سے بات چیت پر گذر بسر کرتی رہی۔ تا آنکہ ام سلیمان کے شوہر نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ غزہ کی پٹی میں آمد کے کچھ عرصہ بعد سنہ 2000ء میں ام سلیمان کے شوہر اسرائیلی فوج کی دہشت گردی میں شہید ہوگئے اور ام سلیمان ایک بار پھر بے سہارا ہوگئیں۔ غزہ میں سوائے اس کے یتیم بچوں کےاس کا کوئی عزیز رشتہ دار نہیں تھا۔ اب وہ اپنے بچوں ہی کے ساتھ یہاں رہ رہی ہے۔

رواں سال جب خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے ایک ہزار فلسطینی شہریوں کےخصوصی حج کی اسکیم کے تحت حج کا اعلان کیا گیا تو غزہ کی پٹی کے شہداء کے لواحقین میں قرعہ فال ام سلیمان کے حق میں بھی نکل آیا۔ ادھر ام سلیمان کا بھائی لبنان کے البداوی کیمپ سے حج کے لیے سعودی عرب روانہ ہوا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ دونوں بہن بھائیوں کی سترہ سال کی مسلسل دوری کے بعد حج نے انہیں ایک بار پھر آپس میں ملا دیا۔

ام سلیمان کی اپنے بھائی سے ملاقات مکہ مکرمہ کے ایک ہوٹل میں ہوئی جہاں دونوں بہن بھائی جذباتی انداز میں ایک دوسرے سے گلے لگ کرملے۔ ام سلیمان اپنے بھائی سے مل کر کبھی مسکراتی اور کھی رو پڑتی۔

ام سلیمان کے بھائی احمد کی زبان پربار بار شکر کے الفاظ جاری ہورہے تھے۔ دونوں بہن بھائیوں نے سعودی حکومت اور خادم الحرمین الشریفین کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو عشروں بعد ایک بچھڑے خاندان کو باہم ملانے کا موقع فراہم کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے دونوں بہن بھائیوں نے سعودی حکومت کو ڈھیروں دعائیں دیں اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔