.

یمنی وزیرخارجہ نے ایران کی ملک میں مداخلت کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیرخارجہ عبدالملک المخلافی نے کہا ہے کہ ایران نے ان کے ملک میں مداخلت جاری رکھی ہوئی ہے۔انھوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یہ دخل اندازی بند کردے۔

العربیہ نیوزچینل کی رپورٹ کے مطابق عبدالملک المخلافی نے یہ بات وینزویلا میں غیروابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس سے قبل ایک ابتدائی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اپنی حکومت کی جانب سے یمن میں امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وینزویلا کے کیربیئن میں واقع جزیرے مارگریٹا میں 120 رکن ممالک پر مشتمل غیر وابستہ ممالک کا دو روزہ سربراہ اجلاس ہفتے کے روز شروع ہوا ہے۔اس میں ایران تحریک کی صدارت وینزویلا کے حوالے کرے گا۔

یمنی وزیر خارجہ نے اجلاس میں کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے ستمبر 2014ء میں حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کی تھی اور دارالحکومت صنعا اور دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد یمنی حکومت نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد سے مدد طلب کی تھی۔

صنعا پر حوثیوں کے قبضے کے بعد یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصورہادی اور ان کے وزراء جانیں بچا کر جنوبی شہر عدن چلے گئے تھے۔جب یمن کے جنوبی شہروں کی جانب بھی حوثی باغیوں نے یلغار کردی تھی تو صدر منصور ہادی سعودی عرب جلاوطنی پر مجبور ہوگئے تھے۔

یمن اور ایران ہی کے حوالے سے ایک اور خبر ۔یمنی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل ناصر الطاہری نے ہفتے کے روز لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط میں شائع شدہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آنے والی ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں کی ایک کھیپ سرحد پر پکڑی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یمنی حکومت قبل ازیں بھی یہ الزام عاید کرچکی ہے کہ ایران امدادی سامان کے پردے میں بحری جہازوں کے ذریعے حوثی شیعہ باغیوں کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود بھیج رہا ہے۔یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی ماضی میں متعدد مرتبہ ایران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کو اسلحہ مہیا کرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔