وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے وفود کے درمیان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد آنے والے 60 دن متعدد چیلنجز سے بھرپور ہوں گے۔
سوزی وائلز نے جمعرات کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فرانس کا دورہ انتہائی کامیاب رہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دورے کا اختتام محلِ ورسائی میں ایک پُروقار عشائیے اور صدر ٹرمپ کی سالگرہ کی تقریب کے ساتھ ہوا۔
وائلز نے لکھا: یہ واقعی ایک شاندار تقریب تھی، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے انتہائی مصروف شیڈول کے بعد، جس میں متعدد دوطرفہ ملاقاتیں اور مختلف عملی اجلاس شامل تھے۔ ان سے زیادہ محنت کوئی نہیں کرتا۔
There have been have so many memorable days and proud accomplishments for the President and his team.
— Susie Wiles (@SusieWiles47) June 18, 2026
The G7 was a huge success and an opportunity to make sure the members and other participates see “America First” in action. Not America Only, America First.
The trip was… pic.twitter.com/TUHlwLysfF
یہ ایک بڑا قدم ہے:
سوزی وائلز نے مزید بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکام کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط عشائیے کے دوران کیے۔
انہوں نے کہا: اگرچہ آئندہ ساٹھ دن اہم تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے دوران مختلف چیلنجز سے بھرپور ہوں گے، تاہم اس معاہدے پر دستخط امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا اور مثبت قدم ہے۔
وائلز نے اس موقع کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور لکھا: صدر ٹرمپ کی یہ تصویر دیکھیے جس میں وہ پھولوں سے سجے ماحول میں دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ورسائی محل کے مرکزی دروازے سے صدارتی قافلے کی آمد بھی دکھائی دے رہی ہے۔
Just prior to this evenings dinner at Versailles in France, hosted by President @EmmanuelMacron—President @realDonaldTrump signed the Iran Memorandum of Understanding, once Secretary Rubio received it…
— Dan Scavino (@Scavino47) June 17, 2026
“A pretty key moment in history we are sharing together…” @SecRubio pic.twitter.com/sLYi6G9TM3
معاہدہ فوری طور پر نافذ:
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ دونوں فریقوں کے دستخط کے بعد فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، اگرچہ اس کی باضابطہ دستخطی تقریب جمعہ کو منعقد ہونا ابھی باقی ہے۔
محمدشہباز شریف جن کے ملک نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں فوراً ختم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا: پاکستان، ثالثی کرنے والی ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا، جہاں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز ہوگا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا، جب ایرانی اور امریکی حکام نے تصدیق کی کہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بنیادی فریم ورک پر الیکٹرانک طور پر دستخط ہو چکے ہیں اور یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر ایک حتمی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات شروع کیے جائیں گے، جبکہ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔علاوہ ازیں فریقین نے تمام محاذوں پر دشمنانہ کارروائیاں روکنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
معاہدے کے متن کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی مکمل طور پر معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر ختم کر دی جائے گی، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور 60 دن تک تجارتی جہازوں کو بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت دے گا۔
بعد ازاں اس اسٹریٹجک گزرگاہ کے انتظام سے متعلق علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ انتظامات پر غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد، جو فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو کافی حد تک متاثر کیا تھا۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ شمار ہوتی ہے اور ایران کی جانب سے دھمکیوں اور بعض حملوں کے باعث اس کی ترسیل متاثر رہی۔
بعد ازاں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کر دی تھی تاکہ تہران کی تیل آمدن کو محدود کیا جا سکے۔کئی ہفتوں کی مذاکراتی کوششوں کے بعد، دونوں ممالک نے گزشتہ اتوار ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ طے کیا، جس کا مقصد بعد کے تفصیلی مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، جن میں ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت بھی شامل ہے۔