.

نیتن یاہو کی جانب سے نئے امریکی امدادی پیکج کا دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اسرائیل کے لیے نئے امریکی پیکج کا دفاع کیا ہے۔ نیتن یاہو کے مخالفین کے نزدیک اگر اسرائیل وائٹ ہاؤس کو غضب ناک نہ کرتا تو اس سے بہتر پیکج حاصل کر سکتا تھا۔

امریکا نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ 2019 سے 2028 کے دوران اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد دے گا تاکہ وہ جدید طیارے اور ہتھیار خریدنے کے ساتھ اپنے میزائل نظام کو بھی مضبوط کرے۔ یہ امریکا کی تاریخ میں سب سے بڑی فوجی امداد ہے۔

نیتن یاہو نے اتوار کے روز اپنی حکومت کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں بتایا کہ "یہ امریکا کی تاریخ میں اس کی جانب سے کسی بھی ملک کو دیا جانے والا سب سے بڑا امدادی پیکج ہے۔ یہ معاہدہ اسرائیل اور امریکا کے درمیان گہرے اور مضبوط تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے"۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے خلاف بھرپور اعلانیہ مہم چلائی تھی جب کہ اس معاہدے کو امریکی صدر باراک اوباما کی حمایت حاصل تھی۔

نتین یاہو نے اس دوران معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے واشنگٹن کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے ریپبلکنز کی دعوت پر کانگریس میں خطاب کیا تھا جس کو وہائٹ ہاؤس نے امریکا کے معاملات میں غیرمسبوق مداخلت شمار کیا تھا۔

اسی حوالے سے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک نے واشنگٹن پوسٹ اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں باور کرایا تھا کہ " نیتنیاہو کے غیرمحتاط رویے نے...اسرائیل کے امن کو خطرے سے دوچار کر دیا"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ " اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر ملیں گے تاہم اگر وزیر اعظم امریکی سیاسی امور میں براہ راست مداخلت کا فیصلہ نہ کرتے تو ہم اس سے کہیں زیادہ حاصل کر سکتے تھے"َ۔

نیتن یاہو نے اتوار کے روز یہ باور کرایا کہ " ہمیں اس سے بڑی رقم ہر گز پیش نہیں کی گئی۔ ہمیں ایک اضافی ڈالر تک نہیں پیش کیا گیا اور نہ ہی ہمیں سامنے خصوصی ٹکنالوجیز کو رکھا گیا۔ یہ سب بے بنیاد اور من گھڑت باتیں ہیں"۔

ایران کے معاملے اور فلسطینیوں کے ساتھ امن عمل کے حوالے سے قائم شدید کشیدگی کے باوجود دونوں حلیف ممالک نے بدھ کے روز واشنگٹن میں معاہدے پر دستخط کیے۔