وہائٹ ہاؤس پر ہیکروں کا ڈاکہ ، میشیل اوباما کے پاسپورٹ کی کاپی
انٹرنیٹ ہیکروں نے دنیا کے طاقت ور ترین صدر کی جائے سکونت یعنی وہائٹ ہاؤس کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے بعد وہ امریکا کی خاتون اول کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کو انٹرنیٹ پر نشر بھی کر ڈالا۔DC Leaks نامی ویب سائٹ نے ہیکروں کی جانب سے افشا کیے جانے والی دستاویزات کی تفصیل بتائی ہے۔ ان میں وہائٹ ہاؤس کے ایک چھوٹے ملازم کی ذاتی ای میلز شامل ہیں جس نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں کام بھی کیا۔ ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق انٹیلجنس اہل کاروں کو شبہ ہے کہ اس کارروائی سے روس کا کوئی تعلق ہے۔
نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہائٹ ہاؤس افشا ہونے والے مواد کی درستی کے بارے میں بیان سے باز رہا تاہم اس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ امریکی وزیر انصاف لوریٹا لنچ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ ان میڈیا رپورٹوں سے باخبر ہیں جس میں امریکی صدر کی اہلیہ کے پاسپورٹ اور وہائٹ ہاؤس کے ایک ملازمIan Mellul کی ای میلز کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
مذکورہ ویب سائٹDCLeaks کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ یہ وہ ہی ویب سائٹ ہے جس نے سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کی ذاتی ای میلز کی آرکائیو جاری کی تھی۔ بعض امریکی حلقے اور متعدد تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائی بھی امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی روسی کوشش کا حصہ ہے۔
وہائٹ ہاؤس پر یہ نیا "حملہ" جمعرات کے روزYahoo کمپنی کی جانب سے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کمپنی نے کہا تھا کہ ہیکروں نے 2014 میں یاہو کے 50 کروڑ صارفین کے اکاؤنٹس ہیک کیے تھے جو کہ تاریخ میں اعلان کردہ ہیکنگ کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ اس دوران ہیکروں نے ذاتی معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل کر لیا تھا۔ ان میں نام اور ای میل اکاؤنٹس شامل ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کارروائی کسی دوسرے ملک کے زیرنگرانی عمل میں لائی گئی۔
-
جیمز فولی کے خاندان کو دھمکایا نہیں تھا، وائٹ ہاوس
رہائی کے لیے درجنوں ممالک سے رابطہ کیا، کیری
بين الاقوامى -
''وائٹ ہاوس چھوڑنے سے دونوں میاں بیوی ٹوٹ کر رہ گئے''
چیلسی کی تعلیم اور مکان کےلیے پونجی جمع کرنا پڑی: ہیلری کلنٹن
بين الاقوامى -
وائٹ ہاوس ایران کو مزید پابندیوں سے بچانے کیلیے کوشاں
وینڈی شرمین کی بریفنگ نے اضطراب بڑھا دیا ہے: سینیٹر گراہم
مشرق وسطی