حوثی ریلیوں میں "امریکا مردہ باد "کے نعروں کی گونج میں کمی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمنی باغیوں کے زیر انتظام اور زیرقبضہ میڈیا میں زیر گردش نمایاں ترین خبر باغی ملیشیاؤں کی جانب سے ان خبروں کی مکمل طور تردید کی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہاز کو حوثیوں نے نشانہ بنایا ہے۔

اس سلسلے میں باغی ملیشیاؤں کے عسکری ترجمان شرف لقمان نے اس حوالے سے آنے والی خبروں کو "منظم بے بنیاد دعوے" قرار دیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ حوثیوں اور معزول صدر علی صالح کی حمایت یافتہ فورسز اپنے زیرانتظام علاقوں میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی کی خواہش رکھتی ہیں۔ لقمان نے کہا کہ وہ ان دعوؤں کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یا کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ادھر باغیوں کی نام نہاد "سپریم سیاسی کونسل" کے سربراہ صالح الصماد کا کہنا ہے کہ یہ خبریں درحقیقت امریکا کے دعوے اور جھوٹ ہیں جن کا مقصد فوجی کارروائی کو الحدیدہ اور المخاء کے ساحلوں اور باب المندب تک وسیع کرنا ہے۔

حوثی جماعت کے ایک سابق کمانڈر علی البخیت ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی تردید پر استھزائیہ انداز سے کہا کہ "حوثیوں نے فوری طور پر اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی.. اچھا تو یہ بتائیں کہ پھر آپ نے بے چارے لوگوں کو امریکا مردہ باد کے نعرے لگانے پر کیوں لگا دیا تھا ؟ "

نوجوانوں کی سرگرمیوں کے کارکن بلال القادری کا کہنا ہے کہ "حوثی امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی قطعی طور پر تردید کر رہے ہیں ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ کوئی بھی شخص اگر خود پر لعنت کرنا چاہتا ہے تو وہ گدھے کی مانند امریکا مردہ باد کا نعرہ لگائے"۔

سیاسی تجزیہ کار ابراهيم الويسی نے اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "امریکا اور اس کے بحری جنگی جہاز حوثیوں کا حقیقی ہدف نہیں جب تک کہ وہ اس پر حملے کے لیے مجبور نہ ہوجائیں"۔

تقریبا تین برس پہلے صنعاء میں سابق امریکی سفیر جیرالڈ وائراسٹائن نے حوثیوں کی جانب سے لگائے جانے والے "امرکا مردہ باد .. اسرائیل مردہ باد" کے نعروں کو مضحکہ خیز اور احمقانہ قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں