.

سوئٹزر لینڈ: شام امن مذاکرات کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں ہفتے کے روز ہونے والے شام امن مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی میزبانی میں ان مذاکرات میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے علاوہ خطے کے سات ملکوں ایران ،عراق ،سعودی عرب ،ترکی ،قطر ،اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ نے حصہ لیا ہے۔

یہ مذاکرات تین ہفتے قبل امریکا اور روس کے درمیان شام میں طے شدہ جنگ بندی خاتمے کے بعد ہوئے ہیں۔یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس اجلاس کے نتیجے میں شام میں جنگ بندی خاص طور پر شمالی شہر حلب پر اسدی فوج اور روس کے فضائی حملے رکوانے اور جنگ سے تباہ حال علاقوں مِیں انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے کچھ پیش رفت ہوسکے گی۔

مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور یہ اجلاس نشستند و گفتند اور خوردند کے بعد برخواستند ہوگیا ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ان مذاکرات کے بارے میں پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ان سے کسی خاص توقع کی امید نہ رکھی جائے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدے دار نے بھی یہ کہا تھا کہ ہم دن کے اختتام پر کسی بڑے اور اہم اعلان کی توقع نہیں کررہےہیں۔

جنیوا جھیل کے کنارے واقع لوزان کے ایک لگژری ہوٹل میں منعقدہ اس اجلاس میں یورپ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔تاہم فرانسیسی وزارت خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ لندن میں اتوار کو شامی بحران پر بات چیت کے لیے ہم خیال ممالک کا ایک اجلاس بلایا جارہا ہے۔

ستمبر میں شام میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان یہ پہلی ملاقات کی تھی۔اول الذکر نے اجلاس سے قبل سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے بھی ملاقات کی تھی اور ان سے ایجنڈے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں تھا۔اس لیے شرکاء کے درمیان کسی بات پر اتفاق رائے ناممکن نظر آرہا تھا۔