.

داعش کے تکفیری نظریات قابل قبول نہیں: الغنوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی اسلام پسند مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ الاسلامیہ کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی نے کہا ہے کہ دولت اسلامی داعش کہلوانے والے گروپ کے تکفیری نظریات ان کے لیے کسی طور پرقابل قبول نہیں کیونکہ لا الہ الا اللہ کہنے والے کسی شخص کو کافر نہیں کہہ سکتے۔

ایک مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے علامہ راشد الغنوشی نے کہا کہ داعش کی حقیقت ایک بکھری ہوئی، منتشر الخیال اور پرتشدد نظریات پرمبنی جماعت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم داعش کے سفاکانہ ہتھکنڈوں کا جواز تلاش نہیں کررہے ہیں۔ داعش اسلام کی انتہائی پرتشدد تصویر پیش کررہی ہے جو عقل و دانش اور حکمت و تدبر سے عاری ہے۔ہم اہل سنت لا الہ الا اللہ کہنے والے کسی مسلمان کو کافر نہیں قرار دے سکتے۔ آپ کسی کو ظالم، خاطی، انتہا پسند اور پر تشدد کہہ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں راشد الغنوشی نے ’القدس العربی‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ایک گروپ سخت غم وغصے اور انتہا پسندی کے راستے پر چل رہا ہے۔ اس سے غیرمعقول تعبیرات کا اظہار کیا جا رہا ہے جسے صرف جنون ہی کہہ سکتے ہیں، مگر یہ جو بھی ہے عراق اور شام میں اہل سنت والجماعت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔