خامنہ ای کا ''درباری قاری'' اپنے طلبہ پر جنسی تشدد کا مرتکب

شرمناک اخلاقی اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی سرکار سے وابستہ درباری شخصیات کے شرمناک اسکینڈلز کوئی نئی بات نہیں۔ ملک میں بڑے معاشی اسکینڈلز کے بعد ایک شرمناک اخلاقی اسکینڈل سامنے آیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ایران کے رہ بر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے گھرکے خاص قاری قرآن کئی سال تک بچوں پر جنسی تشدد کا مرتکب رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایرانی اخبارات میں سامنے آنے والے اسکینڈل نے عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی جب پتا چلا کہ مرشد اعلیٰ کے مقرب سمجھے جانےوالے ایک قرآن پاک کے شہرت یافتہ قاری 46 سالہ سعید طوسی قرآن پڑھانے کی آڑ میں 12 سے 14 سال کے بچوں کو مسلسل سات سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شرمناک اخلاقی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد مرشد اعلیٰ کے مقرب حلقے اور ایرانی عدالتیں ملزم کا کیس چھپانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں۔ کیونکہ اس شرمناک واقعے کے منکشف ہونے کے بعد سپریم لیڈر کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔ سپریم لیڈر گزشتہ کئی سال سے قاری سعید طوسی پر نہ صرف اندھا اعتماد کیے ہوئے تھے بلکہ انھیں عالمی سطح پر قرآت قرآن کے مقابلوں میں شریک کرا کر اسے بین الاقوامی شہرت بھی دلواچکے ہیں۔

اسکینڈل کی پردہ پوشی کے لیے سپریم لیڈر کے مقرب قاری کا کیس متنازع بناتے ہوئے اسے دشمنوں کی افواہوں اور سازشوں کا شاخسانہ قرار دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قاری سعید طوسی عالمی سطح پر قرات قرآن کے دسیوں مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ انھوں نے کم سے کم قرآن پاک کی قرات کے 20 عالمی مقابلوں میں حصہ لیا۔ شام اور ملائشیا میں منعقدہ قرآت قرآن کے عالمی مقابلوں میں قاری سعید طوسی نے پہلی پوزیشن بھی حاصل کی تھی۔

امریکا سے نشر ہونے والے ایک فارسی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں حال ہی میں انکشاف کیاگیا ہے کہ قاری سعید طوسی کے شاگرد تین بچوں نے بتایا کہ انہیں جنسی ہراسانی کانشانہ بنایا گیا۔ ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم قاری سعید کے خلاف ٹھوس تحریری اور آڈیو ثبوت موجود ہیں۔ ایک موقع پر قاری سعید طوسی نے اپنے جرم کا تحریری اعتراف کیا ہے جس میں یہ عہد بھی کیا ہے کہ وہ آیندہ یہ جرم نہیں کرے گا۔

ایک آڈیو پیغام میں قاری سعید طوسی کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اس کے اسکینڈل کے بارے میں سپریم لیڈر اور جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق لاری جانی کو بھی علم ہے مگر وہ اس کیس کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ملک میں قرآن کی ثقافت عام کرنے کےلیے قائم کردہ سرکاری ادارے کو بدنامی سے بچایا جاسکے۔

قاری طوسی کی ہوس کا نشانہ بننے والے اس کے ایک شاگرد نے بتایا کہ چند سال قبل ایک غیرملکی سفر کے دوران اس پر جنسی تشدد کیا گیا جب وہ قاری ’صاحب‘ کے ہمراہ ایک عالمی مقابلہ حسن قرآت میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ طالب علم نے بتایا کہ دوسرے ملک میں جانے کے بعد ہم نے ایک ہوٹل میں دو الگ الگ کمرے بک کرائے۔ بعد میں قاری طوسی نے اپنا کمرہ چھوڑ دیا اور ہم ایک ہی کمرے میں اکٹھے ہوگئے جہاں قاری طوسی نے اسے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اسی نوعیت کے دو دیگر شرمناک کیسز میں قاری طوسی پر طلبہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کادعویٰ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں