.

ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات کے لیے یورپی یونین کی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے یورپی یونین کی جانب سے منگل کے روز جاری اس قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے جس کا مقصد تہران کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق بنانا ہے۔

نیم سرکاری ایجنسی مہر کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے نیوکلیئر معاہدے کے بعد "یورپی یونین کی ایران کے حوالے سے حکمت عملی" کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ قرارداد ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں وسیع اور گہرے تعلقات کے سلسلے میں اس یورپی ادارے کے مثبت ارادے کا اظہار ہے۔

یورپی قرار داد کے حوالے سے ایران کے خیر مقدم کے باوجود ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس قرار داد میں انسانی حقوق اور میزائل تجربوں کو شامل کرنے پر اپنے ملک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس طرح کے معاملات جانبین کے درمیان تعلقات کی بہتری میں زیادہ کردار ادا نہیں کرسکتے"۔

ایران میں انسانی حقوق کے متنازعہ معاملے کے حوالے سے قاسمی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس معاملے کو یورپی یونین کے ساتھ زیر بحث لانے کو تیار ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تہران نے مذکورہ موضوع پر بات چیت کے لیے جواب دیا ہے۔ اگرچہ ایرانی ذمے دار کے قول کی سنجیدگی اب بھی مشکوک ہے اس لیے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے تمام عرصے میں تہران انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے نمائندے احمد شہید کی ایران کے سفر اور اس کی جیلوں کے دورے کی درخواست کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

ادھر بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے قاسمی نے کہا کہ ایران کے میزائل تجربات ان کے ملک کی دفاعی پالیسیوں کے سلسلے میں ہے اور ان کے ملک کی دفاعی صلاحیتیں "قابل ِ مذاکرات" نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گزشتہ سال جولائی میں بڑی طاقتوں کے ساتھ دستخط کیے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کے بعد اپنے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نہ کرے۔ عالمی تنظیم اس کو اشتعال انگیزی اور استحکام کو متزلزل کرنے کا سبب شمار کرتی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے داغے جانے کے تجربات کا سلسلہ جاری رہا۔