بل گیٹس اپنے بچوں کو میراث سے محروم کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

’دولت پرنظر بچوں کی تعلیم متاثر کرسکتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ وہ دن رات دولت جمع کرنے میں اس لیے منہمک ہیں تاکہ ان کے بچوں کا مستقبل سنور جائے، مگر دنیا کے امیر ترین شخص اور عالمی شہرت یافتہ کمپنی’سافٹ ویئر‘ کے مالک ’بل گیٹس‘ اپنی 78 ارب ڈالر کی دولت کو اپنے تین بچوں میں بہ طور میراث تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بل گیٹس اور ان کی اہلیہ ملینڈا ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟ کیا وہ اپنی دولت کے انبار سے اپنے بچوں کو محروم کرنا چاہتے۔ اسی سوال پر امریکی نیوز ویب پورٹل SF Gate میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 60 سالہ بل گیٹس اور ان کی 52 سالہ اہلیہ میلینڈا کی سوچ عام والدین کی اپنے بچوں کےبارے میں سوچ سے قطعی مختلف ہے۔ دونوں یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اپنےدل و دماغ میں دولت کا لالچ نہ رکھیں بلکہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں۔ جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں تو وہ اپنے اپنے پیشوں کی ملازمت اختیار کریں۔ اگر ان کی نظریں والد کی دولت کی طرف ہوں گی تو وہ اچھی طرح تعلیم حاصل نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے بل گیٹس اور ان کی اہلیہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی دولت بچوں کے لیے بہ طور میراث نہ چھوڑیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے الگ سے کوئی فنڈ قائم نہیں کیا نہ ہی بچوں مستقبل کے لیے رقم مختص کی ہے۔

خیال رہے کہ بل گیٹس کے تین بچے ہیں۔ بڑے بیٹے جینیفر کی عمر 20 سال، دوسرے بیٹے روری کی 17 اور فوبی کی 14 ال ہے۔ بل گیٹس کا خیال ہے کہ وہ اپنی تمام دولت خیرات کر دیں۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے بھی ان کے اس فیصلے سے آگاہ ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی یہی چاہتی ہیں کہ وہ تمام دولت فلاحی کاموں پر صرف کریں۔بچوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین کے فیصلے کو نہ صرف بہ خوشی قبول کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے والد کی دولت دنیا میں غربت کا شکار انسانوں کے کام آ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں