.

کیا ڈونلڈ ٹرمپ تنخواہ نہ لینے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے؟

امریکی صدر سالانہ چار لاکھ ڈالر تنخواہ لیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر اور بزنس ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران قوم سے کئی وعدے کر رکھے ہیں۔ ان میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ انتخابات جیتنے کے بعد بہ طور صدر وہ کسی قسم کی تنخواہ یا مراعات نہیں لیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 17 ستمبر 2015ء کو ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتخابی جلسےسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیشروؤں کے برعکس ہرقسم کی سرکاری مرعات قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔ وہ کسی قسم کی تنخواہ وصول نہیں کریں گے۔

ریاست نیو ہمشائر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا تھا کہ ’’آپ لوگ جانتے ہیں کہ صدر بن کر میں پہلا کام کیا کروں گا۔ میں صدر منتخب ہوگیا تو تنخوانہیں لوں گا کیونکہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

خیال رہے کہ امریکا میں صدر کو سالانہ 4 لاکھ ڈالر تک تنخواہ دی جاتی ہے۔ صدر کا ماہانہ مشاہرہ 50ہزار ڈالر ہے۔

ستمبر 2015ء کو ایک انٹرویو میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے تنخواہ نہ لینے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا۔انہوں نے دوبارہ اس بات کی وضاحت کے ساتھ تاکید کی تھی کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ ایک ڈالر بھی نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی جیپ سے پیسے خرچ کررہا ہوں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ میں ان کا یہ وعدہ ایک بار پھر سامنے آ رہا ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے انتخابات میں کامیابی کے بعد اس بارے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سابقہ صدور کی نسبت دولت مند شخصیت ہیں۔ انہیں امریکا میں ریئل اسٹیٹ ٹائیکون کہا جاتا ہےاور ان کی دولت 4 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زیاہ بتائی جاتی ہے۔

اس سے قبل سنہ 1929ء میں سابق امریکی صدر ہابرٹ ہوفر اور سنہ 1961ء میں جون ایف کینڈی نے تنخواہ اور دیگرسرکاری مرعات وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔