تیونس ''عرب بہاریہ'' کی واحد کامیاب کہانی ہے : صدر السبسی
عرب ایک دوسرے کا احترام کریں تو کوئی بھی انھیں شکست نہیں دے سکتا: العربیہ کو خصوصی انٹرویو
تیونسی صدر الباجی قائد السبسی نے کہا ہے کہ عرب بہاریہ تحریکوں میں صرف تیونس کا انقلاب ہی کامیاب رہا ہے۔وہ العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ترکی الدخیل سے خصوصی گفتگو کررہے تھے۔
انھوں نے اس انٹرویو میں تیونس کے داخلی امور،اس کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات اور امریکا میں حالیہ صدارتی انتخابات پر اظہار خیال کیا ہے اور اپنی ذاتی زندگی ،پسندیدہ شاعری اور موسیقی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
صدر الباجی قائد السبسی نے اعتراف کیا ہے کہ ''انھوں نے اگرچہ انقلاب میں حصہ نہیں لیا تھا اور وہ اس وقت وہ گھر ہی میں پڑے رہے تھے لیکن وہ ابھی تک اس کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کے سوا کوئی دوسرا ان نتائج کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔انھوں نے خونریزی کو روکا ہے''۔
انھوں نے کہا:''اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج تیونس اپنے پاؤں پر کھڑا ہے''۔انھوں نے ''عرب بہار'' کی اصطلاح کے استعمال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''لفظ ''عرب بہار'' مغرب سے درآمد کردہ ہے۔میں نے یہ کہا تھا کہ یہاں کوئی عرب بہار نہیں ہے بلکہ تیونسی بہار ہے۔ہم تیونس میں عرب بہار لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں ایک جمہوری نظام ہے''۔
صدر السبسی نے انٹرویو کے دوران تیونس کو درپیش داخلی مسائل ،تعلیم ،خواتین کی آزادی ،معیشت اور ترقی سے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالی۔ دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے ادارے موجود تھے جو بے روزگار نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کررہے تھے یا ان غربت زدہ نوجوانوں کا دہشت گرد تنظیموں نے استحصال کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ '' بہت سے خفیہ گروہ موجود تھے لیکن ہم نے انھیں سنجیدگی سے نمٹ لیا ہے اور اب صورت حال کہیں بہتر ہے''۔
انھوں نے سیاسی اسلام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو مسترد کرتے ہیں۔جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا تیونس اور الجزائر کے درمیان کوئی کشیدگی موجود ہے تو انھوں نے کہا کہ ''دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات آزادی کے لیے جدوجہد کی توسیع ہیں۔الجزائر اور تیونس کی آزادی''۔
لیبیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''جب لیبی عوام کی بات کی جاتی ہے تو وہ مختلف ہیں اور ان کے تنازعات جلد ختم نہیں ہوں گے۔لیبیا میں جاری بحران کا لیبی عوام ہی کوئی حل تلاش کریں گے''۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پُرامید ہیں کہ یہ ملک بحران سے نکل آئے گا لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تیونس نے صدر معمر قذافی کی حکومت کے خلاف انقلاب میں لیبیا کی مدد کی تھی۔
انھوں نے جدید تیونس کے بانی حبیب بورقیبہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ تیس سال تک کام کرچکے ہیں۔
انھوں نے امریکا میں حالیہ صدارتی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کوئی عام ملک نہیں ہے بلکہ ایک سپر پاور ہے اور اس کا خارجہ امور سے تعلق ہے۔
جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کے بارے میں پُرامید ہیں اور کیا ان کے پیش رو صدر براک اوباما کے مقابلے میں عرب دنیا سے بہتر تعلقات استوار ہوں گے؟تیونسی صدر یوں گویا ہوئے:'' اگر ہم ان کے انتخابی مہم کے دوران دیے گئے بیانات کی بنیاد پر بات کریں تو پھر تو یقینی طور پر مایوسی والا معاملہ ہے لیکن ان کی انتخابی مہم ایک چیز ہے اور مدت صدارت دوسری چیز ہے''۔
الباجی قائد السبسی کا کہنا تھا کہ ''اب معاملہ عربوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر عرب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں تو کوئی بھی انھیں شکست سے دوچار نہیں کرسکتا ہے''۔ تیونسی صدر کا یہ انٹرویو العربیہ نیوز چینل سے سوموار کی شب گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1900 جی ایم ٹی سے نشر کیا جارہا ہے۔