.

اقوام متحدہ کے خلاف اسرائیل کے انتقامی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لے گا۔ یہ اعلان سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روکنے کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور ہوجانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

جمعے کے روز 15 ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل میں 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جب کہ امریکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور ماضی کے برخلاف اس مرتبہ ویٹو کا حق بھی استعمال نہیں کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا کے اس اقدام کو "شرم ناک" قرار دیا۔

نیتنیاہو کے مطابق "وزارت خارجہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ایک ماہ کے اندر اقوام متحدہ کے ساتھ ہمارے تمام روابط کا جائزہ تیار کرے۔ ان میں اقوام متحدہ کے اداروں کے لیے اسرائیل کی جانب سے فنڈنگ اور اسرائیل میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کی موجودگی شامل ہے"۔

نیتنیاہو نے مزید بتایا کہ " میں پہلے ہی اقوام متحدہ کے پانچ اداروں کے لیے تقریبا 78 لاکھ ڈالر کے مساوی رقوم کی فراہمی روکنے کی ہدایت کر چکا ہوں۔ ان پانچ اداروں کی اسرائیل کے حوالے سے خصوصی عداوت سامنے آئی ہے"۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اداروں کے نام اور دیگر تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

اسرائیل اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شدید دباؤ کو چیلنج کرتے ہوئے امریکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جس کے نتیجے میں سلامتی کونسل قرارداد منظور کرنے میں کامیاب رہی۔

اسرائیل نے 1967 میں مغربی کنارے ، غزہ پٹی اور مشرقی بیت المقدس میں قبضے میں لی گئی فلسطینی اراضی پر یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کئی دہائیوں سے جاری رکھی ہوئی ہے۔

عالمی برادری مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی تعمیر کی سرگرمیوں کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ شمار کرتی ہے۔ تاہم اسرائیل اس موقف کو مسترد کرتا ہے۔