امریکا سے 35 روسی سفارت کار بے دخل ، چار انٹیلی جنس افسروں پر پابندیاں
صدارتی انتخابات میں مداخلت اور ماسکو میں امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا ردعمل
امریکا کی اوباما انتظامیہ نے 35 روسی سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کرنے کا حکم دیا ہے اور نیویارک اور میری لینڈ میں واقع روس کی دو ''تفریح گاہوں '' کو بند کردیا ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حالیہ صدارتی انتخابات میں روسی انٹیلی جنس کی مداخلت اور ماسکو میں امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کی مہم کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
اوباما انتظامیہ نے واشنگٹن میں روسی سفارت خانے اور سان فرانسیسکو میں واقع روسی قونصل خانے میں تعینات سفارت کاروں کے بہروپ میں انٹیلی جنس کے اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور روس کی دو انٹیلی جنس سروسز اور ان دونوں خفیہ اداروں میں سے ایک ملٹری انٹیلی جنس یونٹ (جی آر یو) کے چار اعلیٰ افسروں پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔وائٹ ہاؤس کو اس کے بارے میں یقین ہے کہ اسی نے جمہوری قومی کمیٹی اور دوسرے سیاسی اداروں پر سائبر حملوں کا حکم دیا تھا۔
امریکا سے بے دخل کیے جانے والے سفارت کاروں میں سے کسی کا بھی ہیکنگ سے کوئی تعلق نہیں بتایا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک اور میری لینڈ میں دو ''تفریح گاہوں'' کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دونوں جگہیں روسی انٹیلی جنس کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جارہی تھیں۔ تاہم امریکی عہدہ داروں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا یہ جگہیں انتخابات سے متعلق ہیکنگ کے لیے استعمال کی گئی تھیں۔
اوباما انتظامیہ نے روسی انٹیلی جنس پر ری پبلکن پارٹی کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے امیدواروں کی جیت کے لیے خفیہ اطلاعات کے افشا کا الزام عاید کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔وہ روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ وہ جمعرات کو اوباما انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ ان اقدامات کا کیا توڑ کریں گے۔
ایک سینئر امریکی عہدہ دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ روسی سفارت کاروں کو امریکا سے نکل جانے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے اور نیویارک اور میری لینڈ میں واقع روسی دفاتر میں جمعہ کو بعد از دوپہر تمام روسی عہدہ داروں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
اس عہدہ دار نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ''یہ فیصلے امریکی سفارت کاروں کو روس کی جانب سے ہراساں کرنے اور(روسی) سفارت کاروں کی سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں''۔
امریکی محکمہ خارجہ گذشتہ کچھ عرصے سے یہ شکایت کررہا تھا کہ روسی سکیورٹی ایجنٹ اور ٹریفک پولیس کے اہلکار ماسکو میں امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کررہے تھے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری روسی صدر ولادی میر پوتین اور وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ یہ معاملہ اٹھا چکے ہیں۔
اس عہدہ دار کا مزید کہنا تھا کہ ''اب روسی سفارت کاروں کو امریکا میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے اور ان پر دو سفارتی جگہوں میں داخلے پر روک لگا دی گئی ہے،اس سے ہمیں امید ہے کہ روسی حکومت اپنے اقدامات پر نظرثانی کرسکے گی کیونکہ اس نے روس میں ہمارے سفارتی اہلکاروں کی صلاحیت کار میں رکاوٹ ڈالی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے خطرہ بنی ہے''۔
اس امریکی عہدہ دار نے بے دخل کیے گئے روسی سفارت کاروں کی شناخت بتانے سے گریز کیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ان میں واشنگٹن میں متعیّن روسی سفیر سرگئی کسلیاک شامل نہیں ہیں۔
امریکی اقدام کے ردعمل میں روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق ،جمہوریت اور قانون کی حکمرانی قسطنطین ڈولگوف کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان طرفہ تعلقات کی بحالی کو نقصان پہنچے گا۔