مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ایران کی قیادت میں ان کے کردار کے بارے میں متضاد بیانات

خاتمی نے تصدیق کی ہے کہ نئے مرشد کو اسرائیلی بم باری کے دوران ٹانگ پر ایسی چوٹ آئی کہ وہ کٹنے کے قریب تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کی صورت حال کے بارے میں ایرانی حکومتی عہدے داروں کے بیانات میں تضاد برقرار ہے۔ انھیں ان کے والد کی وفات کے بعد ایران کا تیسرا مرشد قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ان کی چوٹوں کی نوعیت اور ان کے فرائض کی انجام دہی کی صلاحیت کے بارے میں وسیع پیمانے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس تناظر میں مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن احمد خاتمی نے گذشتہ روز ہفتہ کو سیرجان شہر میں نخبگان اور انتظامی کونسل کے ارکان سے ملاقات کے دوران تصدیق کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیلی بمباری کے دوران ٹانگ پر ایسی چوٹ کا شکار ہوئے کہ ان کی ٹانگ کاٹنے کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کی جنگ کے پہلے دن حملے کے دوران انہیں ٹانگ پر چوٹ لگی، تاہم طبی مداخلت نے اسے بچا لیا اور وہ اب بہتر صحت میں ہیں۔

یہ بیان ایرانی وزارت صحت کے تعلقات عامہ کے سابق ڈائریکٹر کے اس اعلان کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خامنہ ای کے گھر پر اسرائیلی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق 28 فروری 2026 کو جب تہران کے وسط میں علی خامنہ ای کے گھر پر اسرائیلی حملے میں وہ اور درجنوں اعلیٰ حکومتی عہدے دار ہلاک ہوئے، تو اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای بھی وہیں موجود تھے اور شدید زخمی ہوئے، لیکن سرکاری بیانیے کے مطابق وہ زندہ بچ گئے۔

ایران کا تیسرا مرشد قرار دیے جانے کے تقریباً تین ماہ بعد بھی ان کی کوئی تازہ آڈیو یا وڈیو سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ ایرانی شہروں میں ان کی تصاویر بڑے پیمانے پر آویزاں ہیں۔ سرکاری حامی ان کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر شیئر کرتے ہیں اور ایرانی میڈیا میں ان سے منسوب پیغامات پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

اسی سلسلے میں ایرانی وزارت صحت کے تعلقات عامہ کے سربراہ حسین کرمانپور کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے قائدِ انقلاب کے ساتھ کچھ غیر معمولی نہیں ہوا، البتہ ایسے واقعات میں جسم پر کئی زخم آنا فطری ہے، لیکن یہ اتنے شدید نہیں کہ قائد کا چہرہ مسخ ہو یا اعضاء کٹ جائیں۔

دوسری طرف سی این این، نیویارک ٹائمز اور روئٹرز جیسی بین الاقوامی نیٹ ورکس کی رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اب بھی چہرے، بازو، جسم کے بالائی حصے اور ٹانگ پر لگی سنگین چوٹوں کے علاج کے مراحل میں ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ انہیں ایک ٹانگ کے لیے مصنوعی اعضاء کی ضرورت ہے اور میڈیا میں ان کا غائب رہنا اس لیے ہے تاکہ پہلی بار عوام کے سامنے کمزوری کی حالت میں ظاہر نہ ہوں۔

ایک اہم سیاسی پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کے امکان کا اظہار کیا ہے، اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 2 جون 2026 کو کانگریس میں بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی امور چلانے میں تیزی سے شامل ہو رہے ہیں اور ان کا کردار صرف بالواسطہ اثر تک محدود نہیں بلکہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں بھی شریک ہیں۔ روبیو کے مطابق ان سے رابطے براہ راست نہیں بلکہ غیر سرکاری ذرائع یا ثالثوں کے ذریعے ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں