.

گوانتانامو بے کے چار اسیروں کو سعودی عرب منتقل کرنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتانامو بے میں قائم بدنام زمانہ فوجی حراستی مرکز سے چار قیدیوں کو آیندہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں سعودی عرب منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

دو امریکی عہدہ داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان قیدیوں کو سعودی عرب بھیجنے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے ان کی قومیت نہیں بتائی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں واشنگٹن اور الریاض کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد نو یمنیوں کو سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔

صدر براک اوباما اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے قبل گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں باقی رہ جانے والے قیدیوں کو جلد سے جلد ان کے آبائی ممالک یا دوسرے ممالک میں بھیجنا چاہتے ہیں جبکہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان محروسین کی بیرون ملک منتقلی کی مخالفت کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل روک دیا جائے۔

صدر اوباما 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل انیس قیدیوں کو اٹلی ،اومان اور متحدہ عرب امارات سمیت چار ممالک میں بھیجنا چاہتے ہیں۔اگر منصوبے کے مطابق ان کے فیصلے پر عمل کیا جاتا ہے تو پھر گوانتا نامو بے میں صرف چالیس قیدی باقی رہ جائیں گے۔

جنوری 2002ء میں اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کے قیام کے بعد قیدیوں کی یہ سب سے کم تعداد ہے۔ انھیں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران مختلف ممالک سے گرفتار کرکے گوانتانامو بے منتقل کیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف کسی امریکی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا گیا اور انھیں پندرہ سال تک ایسے ہی زیر حراست رکھا گیا ہے۔

براک اوباما نے جنوری 2009 میں امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد اس حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کانگریس نے ان کے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور ان قیدیوں کو کسی بھی سبب کی بنا پر امریکی سرزمین پر منتقل کرنے پر پابندی کردی تھی اور انھیں بیرون ملک بھیجنے پر بھی قدغنیں عاید کردی تھیں۔ تاہم بعد میں کانگریس نے ان قدغنوں میں نرمی کر دی تھی۔