.

امریکا میں ایک اور سعودی طالب علم پر قاتلانہ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست کینٹکی میں نامعلوم افراد نے ایک سعودی طالب علم محمد زید الفضیل کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کردیا ہے۔

اس طالب علم کے والد ڈاکٹر زید نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے بیٹے پر کسی نے لاٹھی یا لوہے کے راڈ سے حملہ کیا تھا۔اس کی حالت سرجری کے بعد اب بہتر ہے۔

زید الفضیل اپنی کار میں سوار کہیں جا رہا تھا،اس دوران نامعلوم افراد نے اس کو روکا اور اس کے سر میں آہنی آلے یا لاٹھی سے وار کیا تھا جس سے اس کا سر پھٹ گیا تھا اور اس میں ٹانکے لگے ہیں۔

زخمی طالب علم امریکا کی ایک جامعہ میں زیر تعلیم ہے اور مالیاتی انتظام ( فنانشیل مینجمنٹ ) میں انڈر گریجوایٹ کورس کررہا ہے۔ڈاکٹر زید کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے پر حملہ عربوں اور مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ کینٹکی کے باسیوں کی اکثریت نے نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔اس کے بعد سے اس ریاست میں عربوں اور مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی کی بنیاد پر حملوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر زید کا کہنا ہے کہ اس حملے کی ایک اور ممکنہ وجہ بھی ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ حملہ آور شاید ان کے بیٹے سے اس کی نئی کار چھیننا چاہتے تھے۔امریکا کے سکیورٹی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کررکھی ہے اور واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کے حکام بھی ان کی معاونت کررہے ہیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ بن یحییٰ المعلمی کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے متاثرہ خاندان کو معاونت مہیا کرنے کے لیے ذاتی کاوشیں کی ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے امریکا میں سعودی طلبہ کلب کے سربراہ صالح عواد کا بھی کیس کی پیروی کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ چند ہفتے قبل ایک اور سعودی طالب علم حسین سعید النہدی کو وسکونسن اسٹاؤٹ یونیورسٹی کے کیمپس کی حدود میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا۔وہ اس جامعہ میں 2015ء سے زیر تعلیم تھا اور وہ بھی کاروباری انتظام میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا تھا۔