.

ٹرمپ کن عرب ممالک کے لیے ویزوں کو روک دیں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند گھنٹوں یا چند روز میں ایک انتظامی فیصلہ جاری کریں گے جس کے تحت بعض ممالک کے شہریوں کا مختلف عرصے کے لیے امریکا میں داخلہ ممنوع ہوگا۔ مذکورہ فیصلہ دو حصوں پر منقسم ہوگا.. پہلا حصہ شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے پروگرام کو روک دینے سے متعلق ہے جس کا عرصہ 120 روز تک ہو سکتا ہے۔ دوسرا حصہ ایران ، عراق ، شام ، یمن ، سوڈان ، صومالیہ اور لیبیا کے شہریوں کے لیے امریکی ویزے کا اجراء روک دینے سے متعلق ہے۔

شامی پناہ گزین

یہ متوقع انتظامی فیصلہ بنیادی طور پر 2015 میں شروع ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم سے وابستہ ہے۔ اس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کا امریکا میں داخلہ روکنا چاہتے ہیں۔ تاہم پھر ٹرمپ نے پینترا بدلا اور اپنے موقف میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو چاہیے کہ ان ممالک کے افراد کو روکے جو دہشت گردی کے لیے چراگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں.. اس کے علاوہ امریکا آنے والے افراد کے حوالے سے چھان بین کے سلسلے میں اقدامات سخت کیے جائیں اور ان کی آمد کے مقاصد کو اچھی طرح سے جانا جائے۔

سابق امریکی انتظامیہ نے اس وقت کے صدر باراک اوباما کے آشیرباد سے 2016 کے دوران امریکا کے مختلف علاقوں میں 15 ہزار سے زیادہ شامی پناہ گزینوں کو بسایا تھا۔ امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے شامی پناہ گزینوں کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ تاہم بدھ کے روز امریکی سکیورٹی ذمے داران نے بتایا ہے کہ امریکی سکیورٹی ایجنسیاں 2015 اور 2016 کے اوائل میں امریکا میں داخل ہونے والے کئی پناہ گزینوں کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہیں جن کے پس منظر کے حوالے سے پوری طرح اطمینان نہیں کیا جاسکا تھا۔

دہشت گردی کی چراگاہیں

ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع انتظامی فیصلے کے دوسرے حصے کا تعلق اُن ممالک سے ہے (ما سوا ایران کے) جن کی کچھ اراضی پر دہشت گرد تنظیموں کا قبضہ ہے۔ مثلا "داعش" تنظیم عراق ، شام اور لیبیا کے بعض حصوں پر قابض ہے۔ "القاعدہ" تنظیم صومالیہ اور یمن کی بعض اراضی پر کنٹرول رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سوڈانی حکومت بھی ملک کے مغربی حصے میں تمام اراضی پر اپنا کنٹرول نہیں رکھتی ہے۔

اس انتظامی فیصلے میں انسداد دہشت گردی کے نظریے کو بنیاد بنایا گیا ہے جس کا اعلان سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے کیا تھا۔ اس کے مطابق امریکا کو اصل خطرہ ان دہشت گرد تنظیموں سے ہے جو مختلف ممالک کی حکومتوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہاں کی سرزمین کے کچھ حصے پر قابض ہیں۔ یہ تنظیمیں بھرتی ، تربیت اور منصوبہ بندی کے ذریعے امریکا کو حملوں کا نشانہ بنا سکتی ہیں۔

ایران

جہاں تک ایران کے شہریوں کے لیے ویزوں کے اجراء کو روکنے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک ایران اپنے پڑوسی ممالک کے لیے حقیقی خطرہ ہے ، امریکا سے بھی عداوت رکھتا ہے۔ ٹرمپ ایرانی نظام کو متنبہہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تہران کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوباما حکومت نے ایرانی نظام کے نمائندوں کا خیر مقدم کیا تھا۔ مثلا سابق سفیر سید حسین موسفیان جو اب پرنسٹن یونی ورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔ تریتا پارسی جو ایک ایرانی امریکی گروپ کی سربراہ ہیں اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان اچھے تعلقات کے فروغ کے لیے سرگرم رہنے کے حوالے سے معروف ہیں۔ سابقہ انتظامیہ کے مخالفین کے نزدیک اس طرح کی ملاقاتیں بالخصوص موسفيان کے ساتھ یہ سب "غير قانونی" ہیں اور ایرانی اور امریکی سرکاری اہل کاروں کے درمیان رابطوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتی ہیں۔

بہرکیف ڈونلڈ ٹرمپ نے سکیورٹی کو اولین ترجیحات میں رکھا ہے۔ وہ امریکی عوام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ انتخابی مہم میں دہشت گردی سے تحفظ کے حوالے سے انہوں نے جو وعدے کیے تھے ان کو پورا کرنے میں سچے ہیں۔