مسلمان مخالف اقدامات،البرائٹ کا ٹرمپ کواسلام قبول کرنے کا چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہنے والی سرکردہ امریکی سیاست دان میڈلین البرائیٹ نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی جانب سے مسلمان شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے اعلان کے خلاف انوکھا احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ بعض مسلمان اور عرب ممالک کے باشندوں کے 120 دن تک امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو قبول نہیں کرتیں۔ اگر ٹرمپ مسلمانوں پر پابندی کے فیصلے پر مُصر رہتے ہیں تو وہ خود کو مسلمان رجسٹر کرالیں گی۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں میڈلین البرائیٹ نے کہا کہ میری تربیت کیتھولک عیسائی کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ بعد ازاں میں اسقف کلیسا کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ مجھے پتا چلا کہ میرا خاندانی پس منظر یہودی ہے اور آج میں پناہ گزینوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرانے کی تیاری کررہی ہوں‘۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پرامریکا میں مجسمہ آزادی کی تصویر پوسٹ کی اور اس کے نیچے لکھا کہ امریکا کے دروازے آج بھی تمام ادیان اور انسانی طبقات کے لیے کھلے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں