صدر ٹرمپ کی سات مسلم قومیتوں پر سفری پابندیوں کی وضاحت

امریکی صدر نے میڈیا پر انتظامی حکم کی غلط رپورٹنگ کا الزام عاید کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات مسلم ملکوں کے شہریوں اور تمام مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حکم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی مسلمانوں کے خلاف اقدام نہیں ہے۔انھوں نے میڈیا پر اس انتظامی حکم کی غلط رپورٹنگ کا الزام عاید کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے انتظامی حکم کے خلاف امریکا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر احتجاجی مظاہروں کے بعد پہلی مرتبہ ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے اور اس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ''میری پالیسی صدر اوباما کی 2011ء کی پالیسی کے مشابہ ہے۔انھوں نے تب عراق سے تعلق رکھنے والے مہاجرین پر چھے ماہ کے لیے ویزوں کے اجراء پر پابندی عاید کردی تھی۔انتظامی حکم میں جن سات ممالک کے نام لیے گئے ہیں،انھیں ماضی میں اوباما انتظامیہ دہشت گردی کے منبع کے طور پر شناخت کرچکی ہے''۔

ٹرمپ نے اپنے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''اس پابندی کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔اس کا تعلق دہشت گردی سے ہے اور ہم اپنے ملک کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔دنیا میں چالیس سے زیادہ مسلم اکثریتی ملک اور بھی ہیں اور وہ اس انتظامی حکم سے بالکل بھی متاثر نہیں ہوئے ہیں''۔

بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آیندہ نوّے روز میں زیادہ محفوظ پالیسیاں اختیار کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر تمام ملکوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردے گی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''شام میں بدترین انسانی بحران سے دوچار لوگوں کے بارے میں، میں گہرے محسوسات رکھتا ہوں۔میری اولین ترجیح ہمیشہ یہ ہوگی کہ میں اپنے ملک کا تحفظ کروں اور اس کی خدمت کروں لیکن صدر کی حیثیت سے میں مصائب کا شکار تمام لوگوں کی مدد کے طریقے بھی تلاش کروں گا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں