" مسیح علیہ السلام بھی پناہ گزین تھے" امریکی پادری کا ٹرمپ کو چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں ایک پادری نے اتوار کے روز اپنی ٹوئیٹ میں مسیح علیہ السلام کو " پناہ گزین" قرار دے کر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پادری Al Sharpton کے ٹوئیٹر پر فالوورز کی تعداد تقریبا 5 لاکھ 22 ہزر ہے۔

شارپٹن نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ " آج کلیسا کا رخ کرنے سے قبل آپ لوگ مسیح پر خدا کا شکر ادا کریں جو پناہ گزین تھے اور مصر کی جانب فرار ہوئے"۔

امریکی شہری حقوق کی تحریک کے سیاہ فام سرگرم کارکن اور (Sunday Morning) نامی ریڈیو پروگرام کے میزبان خود پر ہونے والی شدید تنقید اور نکتہ چینی پر خاموش ہو کر نہیں بیٹھے۔ شارپٹن نے بدھ کے روز بھی ایک وڈیو کلپ جاری کیا جس میں خود پر ہونے والی نکتہ چینی کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے لوگوں کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں تاہم درحقیقت جو کچھ ہوا وہ ایک علاحدہ معاملہ ہے۔ شارپٹن نے وڈیو میں بائبل کی چند سطریں بھی پڑھیں جن سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ مسیح علیہ السلام نے بچپن میں ظلم سے بچنے کے لیے اپنی والدہ کے ساتھ فرار ہو کر مصر میں پناہ لی تھی۔

اگرچہ شارپٹن نے اپنی ٹوئیٹ میں کسی طور ٹرمپ کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا تاہم بالکل واضح طور نظر آتا ہے کہ یہ ٹرمپ کے مہاجرین کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں کا رد عمل ہے۔ بالخصوص جب کہ یہ اسی روز سامنے آیا جب ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں سات اسلامی ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخل ہونے پر پابندی لگانے کے فیصلے کا جواز پیش کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ " مشرق وسطی میں مسیحیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اوباما انتظامیہ نے مسیحی مہاجرین کے کھاتے میں مسلمان پناہ گزینوں کو داخلے کی سہولیات پیش کیں تاہم ان کی انتظامیہ اب اس کی اجازت ہر گز نہیں دے گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں