یمن : حوثیوں نے 300 شہریوں کو اغوا کر لیا ،تاوان کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی اِب گورنری میں حوثی باغیوں نے بڑوں اور بچوں سمیت کم سے کم تین سو عام شہریوں کو اغوا کر لیا ہے اور وہ ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ یرغمال بنائے گئے افراد کا ضلع رمید کے دو دیہات دبیح اور المیدان سے ہے۔ انھیں حوثی ملیشیا کے ایک کمانڈر ابو عبدالرحمان العلوی کی اسی ضلع میں گذشتہ جمعے کو ہلاکت کے ردعمل میں اغوا کیا گیا ہے۔

حوثی ملیشیا کا کمانڈر نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں متعدد مکانوں کو نذر آتش کردیا ہے۔

حوثی جنگجوؤں نے ان دونوں دیہات میں گھروں پر دھاوا بول کر مکینوں کو باہر نکال دیا تھا اور پھر ان میں سے مردوں کو زبردستی اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے ہیں۔

ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ان دونوں دیہات کے مکین مسلح نہیں تھے اور وہ حوثی کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔حوثیوں نے متعدد مکانوں میں لوٹ مار کی ہے اور ایک گاؤں کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے اس کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی بند کررکھا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے بعض ماؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی رہائی کے لیے انھیں سونا اور سونے کے زیورات دیں اور ایک خاتون نے اپنے کم سن بچے کی رہائی کے لیے اپنا تمام سونا حوثی جنگجوؤں کے حوالے کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق حوثی ملیشیا نے 21 ستمبر 2014ء کو صنعا میں داخلے کے بعد کم سے کم دس ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان میں سے بیشتر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے، کوڑے مارے ہیں اور بجلی کے جھٹکے دیے ہیں ،لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا ہے اور تشدد کے ذریعے انھیں ایسے جرائم قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے جس کا انھوں نے کبھی ارتکاب ہی نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں