.

کینیڈا کی عدالت نے ایران پر 3 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیوں عائد کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا میں اونٹاریو کی اعلی عدالت نے ایران کو پابند کیا ہے کہ وہ اُن خاندانوں کی جانب سے دائر کیے جانے والے مقدمے کے قانونی اخراجات کی ادائیگی کرے جو عدالت کے نزدیک "ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں" سے متاثرہ ہیں۔ یہ بات ترک نیوز ایجنسی "اناضول" نے بتائی۔

کینیڈا کے میڈیا نے ہفتے کے روز بتایا کہ عدالت نے رواں ماہ 8 فروری کو ایران پر مذکورہ مد میں 3 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا اور اس کی ادائیگی کے واسطے 30 کی مہلت دی ہے۔

اس سے قبل جون 2016 میں اونٹاریو کی اعلی عدالت نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ کینیڈا میں ایرانی حکومت کی غیر سفارتی رقوم سے اُن حملوں کے متاثرین کو زر تلافی کی ادائیگی کی جائے جن کی منصوبہ بندی تہران نے کی تھی اور لبنانی حزب اللہ اور فلسطینی تنظیم حماس نے ان پر عمل درامد کیا۔

دھماکے اور اغوا کی کارروائیاں

اُس وقت عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ 1983 اور 2002 کے درمیان 8 دھماکوں یا اغوا کی کارروائیوں میں مارے جانے والے امریکیوں کے خاندانوں کو زر تلافی کی ادائیگی کی جائے جس کا اُس وقت اندازہ 1.3 کروڑ ڈالر لگایا گیا۔

دہشت گردی کا شکار ہونے والے امریکیوں کے خاندانوں نے 2012 میں منظور کیے جانے والے نئے قانون کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ قانون متاثرہ افراد کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کینیڈا کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرست ریاست شمار کیے جانے والے مممالک کی رقوم سے ہرجانہ یا زرتلافی حاصل کر سکتے ہیں۔

ان خاندانوں نے اسی نوعیت کا ایک اور مقدمہ امریکی عدالت میں بھی دائر کیا تھا جس نے گزشتہ برس اپریل میں مماثل فیصلہ جاری کیا تھا اور ایران نے اس پر شدید اعتراضات کیے تھے۔

امریکی عدالت نے 20 اپریل کو جاری فیصلے میں ایران کو حکم دیا تھا کہ وہ امریکا میں اپنی منجمد رقوم سے 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کرے۔

ایک غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق زر تلافی کا مطالبہ تقریبا ایک ہزار امریکیوں کے خاندانوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ امریکی ان حملوں کے دوران ہلاک ہوئے جن کی منصوبہ بندی تہران نے کی تھی یا پھر اس کی سپورٹ سے کی گئی۔