.

کیا اسرائیل ایک مذہبی ریاست بننے جا رہا ہے؟

یہودی مذہبی قانون کے مطابق عدالتی فیصلوں کے لیے قانون سازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں دائیں بازوں کی جماعتوں کے بر سراقتدار آنے کے بعد صہیونی ریاست پر مذہب کا رنگ کچھ زیادہ ہی نمایاں ہونے لگا ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ [کنیسٹ] میں ایک نیا قانون منظور کیا ہے جسے ’عبرانی عدلیہ‘ کا نام دیا گیا۔

اسرائیل کے موقر عبرانی اخبار’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں ابتدائی رائے شماری کے تحت منظور ہونے والے قانون کے ذریعے ملک میں یہودی مذہبی قوانین کو رواج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ’عبرانی عدلیہ‘ کے عنوان سے منظور کیے گئے مسودہ قانون کا مقصد عدالتی فیصلوں میں یہودی’شریعت‘ کی تاثیر اور مذہبی چھاپ کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اگرچہ اس قانون پر مزید دو بار رائے شماری کی جائے گی مگر اس قانون میں پیش کی گئی تجاویز میں اس بات کی طرف واضح اشارہ موجود ہے کہ اسرائیلی عدالتی فیصلوں سے یہ تاثر پیدا ہونا چاہیے کہ ان فیصلوں کا مصدرمذہبی تعلیمات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر کسی عدالتی فیصلے کی حالیہ دور میں نظیر نہ ملے تو پرانے عبرانی ادوار کے قوانین اور فیصلوں کو بہ مثال پیش کیا جاسکے۔

اپوزیشن کو مطمئن رکھنے کے لیے مجوزہ آئینی بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ اسرائیلی عدالتوں کے تمام ججوں کا ’عبرانی عدلیہ‘ کے قانون کی پابندی لازم نہیں۔ مجوزہ قانون ’جیوش ہوم‘ کے نیسن سلومیانسکی نے پیش کیا جسے حکمراں جماعت لیکوڈ، یسرائل کاٹز اور ’شاس‘ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اختلافات کے باعث اس پر مزید بحث موخر کی گئی ہے۔

اخبار’ہارٹز‘ سے بات کرتے ہوئے سلومیانسکی نے کہا کہ کابینہ کی آئینی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ عدلیہ کے معاملے میں کسی دوسرے ادارے کو اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے گی‘ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی عدلیہ کے جج موجودہ عدالتی قانون کے پابند نہیں ہوں گے اور نہ ہی مروجہ عدالتی نظام ’عبرانی عدلیہ‘ کے قانون کا پابند ہوگا۔ البتہ تمام ججوں کو درمیانہ راستہ اپنانا ہوگا۔ جج اپنے فیصلوں میں اس عبرانی قانون و شریعت کے تجاوز نہ کرنے کا خیال ضرور رکھیں گے۔

اسرائیلی جج کسی مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے آسٹریا یا نیوزی لینڈ میں ہونے والے فیصلوں کو نظیر بنانے کے بجائے عبرانی قانون کے تحت کیے گئے فیصلوں کو مد نظر رکھیں گے۔

اپوزیشن جماعت ’میرٹز‘ کی رکن پارلیمنٹ زھافا گلوؤن کا کہنا ہے کہ کنیسٹ کے لیے پرانے دور کے عبرانی قوانین کو ملک میں نافذ کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا اسرائیل جمہوری ریاست کے بجائے مذہبی ریاست کی طرف ایک اور قدم آگے بڑھ رہا ہے۔