مہاجرین سے متعلق ٹرمپ کے فیصلے پر شامی پناہ گزین کی پہلی ضرب
امریکا کی ریاست وِسکونسن کی وفاقی عدالت کے جج نے جمعے کے روز ایک شامی پناہ گزین کی بیوی اور بیٹی کو امریکا میں داخلے سے روکنے کی پالیسی پر عمل درامد نہ کرنے کا حکم جاری کر کے.. ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین کے داخلے کو روکنے سے متعلق جاری صدارتی فرمان پر قانونی ضرب لگا دی۔ مذکورہ شامی کی بیوی اور بیٹی صدارتی فرمان سے قبل ہی امریکا میں پناہ کا حق حاصل کر چکی تھیں۔
اگرچہ امریکی عدالت کے جج کا فیصلہ صرف اس شامی پناہ گزین کی بیوی اور بیٹی (جو شام کے شہر حلب میں رہ رہی ہیں) کے معاملے پر ہی نافذ ہوگا تاہم یہ ایک " اہم معاملے" کی حیثیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھ مارچ کو جاری ہونے والے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درامد معطل کرنے کے واسطے یہ اپیل کا پہلا کیس ہے۔ ٹرمپ کے نیا صدارتی فرمان 16 مارچ سے نافذ العمل ہوگا۔
امریکی وفاقی عدالت کے سینئر جج ولیم کونلی کے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے والے شامی کے اہل خانہ اگر شام میں رہنے پر مجبور ہوئے تو انہیں "شدید خطرہ لاحق" ہوگا۔ مذکورہ سنی شامی شہری 2014 میں شدت پسندوں کے ہاتھوں تقریبا یقینی موت سے بھاگ کر امریکا پہنچا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے بھی پناہ کا حق حاصل کر لیا۔ اس کی پناہ کی درخواست سکیورٹی جانچ کے آخری اور حتمی مرحلے میں تھی کہ اس دوران 27 جنوری کو ٹرمپ کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے نتیجے میں اس پر کام روک دیا گیا۔
ٹرمپ کے فرمان میں سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر 120 روز کے لیے اور دنیا بھر کے پناہ گزینوں پر غیر معینہ مدت کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ ممالک ایران ، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان ، شام ، یمن اور عراق تھے۔
بعد ازاں پیر کے روز جاری ہونے والے نئے فرمان میں ممالک کی تعداد کم کرتے ہوئے عراق کو فہرست سے مستثنی قرار دیا گیا۔
دوسری جانب امریکا میں وسیع رسوخ کی حامل "شہری حقوق کے دفاع کی تنظیم" کے ذمے دار عمر جودت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ " مسلمانوں کے داخلے پر پابندی میں رسمی سی ترمیم سے بنیادی مسئلہ نہیں ہوتا وہ یہ کہ ہمارا آئین اور ہمارے قوانین مذہبی امتیاز سے روکتے ہیں"۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک سابق فرمان کی طرح نیا فرمان بھی " مسلمانوں کے لیے معاندانہ احساس کو جنم دے گا اور اصل قومیت کی بنیاد پر واضح امتیاز کا آئینہ دار ہے"۔
-
ایران خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے: امریکا
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزیف فوٹیل نے کہا ہے کہ ایران خطے کی سلامتی کے ...
بين الاقوامى -
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محمود عباس کو امریکا دورے کی دعوت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی ہے ...
بين الاقوامى -
داعش کے خاتمے کے بعد شام سے کوچ نہیں کریں گے : امریکا
امریکی مرکزی افواج کے کمانڈر جوزف فوٹل کا کہنا ہے کہ ان کی افواج شام میں امن او ...
مشرق وسطی