ایردوآن کی حمایت میں اجتماعات پر جرمنی اور فرانس میں اضطراب
ترکی اور ہالینڈ کے درمیان اختلاف کے بعد جرمن وزیر داخلہ نے ترک وزراء کے جرمنی پہنچ کر ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حمایت میں ہونے والے اجتماعات میں شرکت کے حوالے سے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جرمن وزیر تھوماس ڈے میزیئر نے اتوار کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ " ذاتی طور پر میں اس مظہر کا حامی نہیں ہوں۔ ترک مہم سے جرمنی کا کوئی تعلق نہیں ہے"۔
انقرہ حکومت بیرون ملک بسنے والے تُرکوں کو صدر ایردوآن کے اختیارات میں اضافے پر قائل کرنے کے واسطے ان اجتماعات پر بڑی حد تک انحصار کر رہی ہے ، اس حوالے سے آئندہ ماہ ترکی میں ریفرنڈم کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں تُرک کمیونٹی کی سب سے بڑی تعداد جرمنی میں ہے جہاں تُرکوں کی تعداد 14.4 لاکھ افراد ہے۔
رواں ماہ جرمنی کے کئی شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے ایسے اجتماعات کو منسوخ کیا گیا جن میں ترک ذمے داران کو شریک ہونا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایردوآن سخت برہم ہوئے اور انہوں نے اسے "نازی اقدامات" قرار دیا۔
تاہم جرمن وزیر داخلہ نے ٹی وی انٹرویو کے دوران ان اجتماعات پر پابندی لگانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے خیال میں اس طرح کا اقدام گہرائی کے ساتھ غور کا تقاضہ کرتا ہے۔
اسی سے متصل سیاق میں فرانس میں دائیں بازو اور دائیں بازو کے شدت پسند حلقوں نے اس نوعیت کی ملاقاتوں کے واسطے ترک وزیر خارجہ کی فرانس آمد کی اجازت دینے پر اپنے ملک کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ہالینڈ کی جانب سے ترک وزیر خارجہ چاوش اوگلو کو دورے کی اجازت نہ دینے کے بعد فرانس کے حکام نے انہیں اتوار کے روز ملک کے شمال مشرق میں واقع شہر میٹز میں تقریبا 10 ہزار افراد کے اجتماع میں شرکت کی اجازت دے دی۔
دائیں بازو کی ایک خاتون رہ نما مارین لوبن نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ " ہم اپنی سرزمین پر ان سرگرمیوں سے درگزر کرنے کے پابند نہیں جن کو دیگر جمہوریتوں نے مسترد کر دیا ہے... ہم فرانس میں ترکی کی انتخابی مہم نہیں چاہتے"۔
دوسری جانب دائیں بازو کے امیدوار فرنسوا فیون نے فرانسیسی صدر فرنسوا اولاند پر "یورپی یک جہتی سے شرم ناک انداز میں دوری" کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران جرمنی ، آسٹریا ، سوئٹزرلینڈ اور ہالینڈ میں متعدد مماثل اجتماعات منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
فرانس میں تقریبا 7 لاکھ ترکی یا ترک نژاد فرانسیسی بستے ہیں جن میں 1.6 لاکھ ملک کے مشرقی حصے میں آباد ہیں۔ ان میں 70 ہزار افراد نے ترکی کی ووٹر فہرستوں میں اپنا اندراج کرایا ہے اور ان میں عام طور پر تقریبا 60% اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔