بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا ہماری ترجیح نہیں: امریکا
شامی اپوزیشن نے امریکی موقف مسترد کردیا
اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں جاری خون خرابہ ختم کرانے اور جنگ بندی کا خواہاں ہے۔ بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ دوسری جانب شامی اپوزیشن نے امریکی سفیر کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے بشار الاسد کے شام کے مستقبل میں کسی بھی کردار کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیرہ کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی مرضی کا معرکہ اختیار کرتے اور اس میں اترتے ہیں۔ جب ہم ایسے کسی معاملے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہماری ترجیحات میں بشار الاسد کو اقتدارسے ہٹانا ہرگز نہیں ہے۔
قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ بشار الاسد کا ملک کے مستقبل میں کوئی سیاسی کردار قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ترک وزیرخارجہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کےطویل المیعاد کردار کا فیصلہ شامی عوام ہی کریں گے۔
خیال رہے کہ آئندہ ماہ اپریل سے امریکا سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے والا ہے۔ امریکی خاتون سفیر نے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ہماری توجہ اور ترجیحات شام میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ اور تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔
نیکی ہالے نے کہا کہ ہماری ترجیح صرف یہ ہے کہ ہم شام میں قیام امن میں کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ امریکا کے ساتھ کون کون تعاون کرتا ہے۔ اس ضمن میں ہم شامی قوم کے حقیقی نمائندہ طبقات سے بات کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی حکومت کا بشارالاسد کے بارے میں موقف سابق حکومت کے موقف سے مختلف ہے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما بشارالاسد کو شام میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ مگر ہم ایسا ہرگز نہیں کررہے ہیں۔
البتہ ہم امریکا بشار الاسد کے حلیف ایران کے خطے میں بڑھتے اثرو رسوخ کو کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔
شامی اپوزیشن کا موقف
دریں اثناء شام میں سپریم مذاکراتی کونسل اور دوسرے نمائندہ اپوزیشن گروپوں نے جنیوا میں جمعرات کے روز اپنے بیانات میں امریکی حکومت کے بشار الاسد بارے موقف کو مسترد کردیا ہے۔
اپوزیشن کی نمائندہ سپریم مذاکراتی کونسل کے ترجمان منذر ماخوس نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں شام کی سیاست میں بشار الاسد کا کوئی معمولی کردار بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مائنس بشار الاسد کے فارمولے سے اتفاق ہے اور ہم اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے۔
چند روز قبل شامی اپوزیشن کونسل کے چیئرمین نصر الحریری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام کی عبوری حکومت میں بشار الاسد کی شراکت قبول نہیں کی جائے گی۔
-
عرب قیادت کا یمن، شام، فلسطین کے تنازعات حل کرنے پر زور`
کوئی ملک اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل نہ کرے
بين الاقوامى -
شاہ سلمان کا یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے پُرامن حل پر زور
ایران خطے کے ممالک کی خود مختاری اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کا احترام کرے: امیرِ ...
مشرق وسطی -
شام: فرات ڈیم کے وسیع حصے پر امریکی اور فرانسیسی فوج کا کنٹرول
امریکا اور فرانس کی فوج نے شام کے شہر الرقہ کے قریب دریائے فرات پر بنے ’فرات ...
بين الاقوامى