بھارت: ہندو ہجوم کے تشدد سے گائے لے جانے والے مسلمان کی موت

درگاہ اجمیر شریف کے دیوان نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں ہندوؤں کے تشدد سے شدید زخمی ہونے والا ایک مسلمان چل بسا ہے۔انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم نے اس مسلمان کو گائے لے جانے کی پاداش میں مارا پیٹا تھا۔انھیں شُبہ ہوا تھا کہ وہ گائے کو ذبح کرنے کے لیے لے جارہا تھا۔

بھارتی پولیس کے مطابق مقتول پہلو خان سمیت پندرہ افراد کو ہفتے کی رات ریاست راجستھان میں ہندو بلوائیوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ تین روز تک اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہا تھا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے ان افراد نے میلہ مویشیاں سے یہ جانورخرید کیے تھے اور وہ انھیں ٹرکوں پر لاد کر پڑوسی ریاست ہریانہ میں لے جا رہے تھے۔انھیں قصبے بہرور کے نزدیک ایک ہجوم نے روکا اور گاڑیاں سے اتار کر ان پر لاٹھیاں برسانا شروع کردی تھیں۔پولیس نے باقی زخمی چودہ افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

واضح رہے کہ ہندو گائے کو اپنے لیے مذہبی طور پر متبرک خیال کرتے ہیں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف گائے ذبح کرنے یا اس کا گوشت کھانے کے شُبے میں تشدد کی کارروائیاں تیز کررکھی ہیں اور اب تک متعدد مسلمان ہندو بلوائیوں کے تشدد سے جان کی بازی ہار چکے ہیں یا وہ زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوچکے ہیں۔

بھارت کی بعض ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ اور اس کا گوشت کھانے پر مکمل پابندی عاید ہے۔درایں اثناء ہندوستان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی درگاہ کے متولی دیوان سیّد زین العابدین علی خان نے بھارتی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ گائے کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے کا سلسلہ ترک کردیں۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دیوان صاحب نے حضرت خواجہ غریب نواز کے 805 ویں سالانہ عرس کے اختتام پر ایک ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’محض مُنھ کے ذائقے کے لیے کسی جانور کو ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ہندو گائے کو مذہبی طور پر اپنے لیے متبرک خیال کرتے ہیں،اس لیے مسلمانوں کو ان کے عقیدے کے احترام میں گائے کا گوشت کھانا ترک کردینا چاہیے‘‘۔

انھوں نے درگاہ کی حدود میں گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے پر پابندی عاید کردی ہے۔انھوں نے قانون سازوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گائے کے ذبیحہ پر پابندی عاید کرنے کے لیے ایک پالیسی وضع کریں تاکہ ملک میں سب لوگ امن وآشتی اور ہم آہنگی سے رہ سکیں۔

بھارت میں گائے کے ذبح اور گوشت کی بنا پر آئے دن مذہبی تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ہندو بلوائی گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شبے میں مسلم قصابوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں یا ان کی دکانوں کو نذرآتش کردیتے ہیں۔ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا پسند نئے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیاناتھ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گائے کے تحفظ کے لیے مہم بھی تیز کردی گئی ہے اور اس کے تحت ان کی حکومت نے مسلم قصابوں کی دسیوں دکانوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔اس کے علاوہ ریاست میں قصابوں کی دکانوں کو غیر لائسنس یافتہ قرار دے کر ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں