.

’راہ گیروں کو ’داعش‘ کے حکم پر ٹرک تلے کچلا‘

سویڈن میں گرفتار اُزبک ڈرائیور کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن کے ذرائع ابلاغ نے مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس کے زیر حراست مشتبہ ازبک دہشت گرد رحمت عقیلوف نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے گذشتہ جمعہ کو راہ گیروں کو کچلنے کے لیے ان پر ٹرک شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے حکم پر چڑھایا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سویڈن کے ایک قومی اخبار’افتون پلاڈٹ‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ راہ گیروں کو ٹرک تلے روندنے میں ملوث مشتبہ دہشت گرد کی شناخت رحمت عقیلوف کے نام سے کی گئی ہے۔ اس نے دوران تفتیش گذشتہ جمعہ کے روز اسٹاک ہوم میں ایک سڑک پر چلتے راہ گیروں پر ٹرک چڑھانے کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ اقدام داعش کے حکم پر کیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو اسٹاک ہوم میں ایک جنونی ٹرک ڈرائیور نے سڑک پر چلتے راہ گیروں پر اپنا ٹرک چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے تھے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ازبکستان سے تعلق رکھنے والے گرفتار ٹرک ڈرائیور نے داعش کے ساتھ اپنے تعلق کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک کیا۔ اس نے داعش کے حکم پر کفار کو قتل اور زخمی کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری ازبک شہری رحمت عقیلوف سے تفتیش جاری ہے۔ سویڈش پولیس نے اسے جمعہ کی شام کو دارالحکومت اسٹاک ہوم کے شمالی علاقے مارشٹا سے حراست میں لے لیا تھا۔ وہ سڑک پرچلتے راہ گیروں کو کچل کرخود فرار ہو گیا تھا تاہم مقامی شہریوں نے اس کی ذرائع ابلاغ میں آنے والی تصویر کی روشنی میں پہچان لیا اور پولیس کو اس کے بارے میں اطلاع دے دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ’ارلانڈا‘ ہوائی اڈے سے بیرون ملک فرار کی کوشش کر رہا تھا۔ بیرون ملک فرار سے قبل اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے شکل تبدیل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے کپڑوں میں پھنسے شیشے کے ٹکڑوں اور زخموں نے لوگوں کو اس بارے میں شک میں ڈال دیا جس کے نتیجے میں اسے پکڑ لیا گیا تھا۔

دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے ٹرک کے اندر سے پولیس کو ایک بیگ بھی ملا جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ مگر مشتبہ شدت پسند دیسی ساختہ بم سے دھماکہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدت پسند نے سنہ 2014ء میں سویڈن میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی مگر اس کی درخواست 2016ء میں مسترد ہوگئی تھی۔ اس کےبعد اس نے ملک سے نکالنےجانے کے خوف سے اپنی رہائش اور ایڈریس تبدیل کر دیا تھا۔