.

سوڈان : 18 سے 50 سال کے مصری مردوں پر ویزے کی پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان نے 18 سے 50 سال تک کی عمر کے مردوں پر ملک میں داخلے کے لیے ویزے کی پابندی عاید کردی ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ دہشت گردوں کی ملک میں دراندازی کو روکنے کے لیے کیا ہے۔

سنہ 2004ء میں طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت تمام مصری شہری سوڈان میں بغیر ویزے کے داخل ہوسکتے ہیں لیکن سوڈانی حکام نے اب بالغ مردوں کے لیے ویزے کا حصول لازمی قراردے دیا ہے۔ البتہ مصری خواتین اب بھی بغیر کسی کے ویزے میں سوڈان میں داخل ہو سکتی ہیں۔

سوڈانی وزیر خارجہ ابراہیم غندور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ مصریوں پر ویزے کی پابندی عاید کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کے بعد کیا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس فیصلے کا مقصد دونوں ملکوں کے شہریوں کی آمد ورفت کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانا ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کو داخل ہونے سے روکا جا سکے‘‘۔

واضح رہے کہ 2004ء سے مذکورہ سمجھوتے کے تحت مصری تو آزادانہ سوڈان میں آتے جاتے رہتے ہیں لیکن سوڈانیوں کو مصر میں داخلے کے لیے ویزے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔

سوڈانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خرطوم حکومت نے یہ فیصلہ فروری میں دارالحکومت میں ایک اپارٹمنٹ میں دھماکے کے بعد متعدد عرب شہریوں کی گرفتاری کے بعد کیا ہے۔اس اپارٹمنٹ میں بم تیار کرتے ہوئے پھٹ گیا تھا اور اس کے نتیجے میں مبینہ بم ساز زخمی ہوگیا تھا۔

سوڈان میں اس وقت ہزاروں شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔ وہ سنہ 2011ء میں اپنے ملک میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد مشرقی افریقا میں واقع اس ملک میں اٹھ آئے تھے اور گذشتہ برسوں کے دوران میں ان کی مسلسل سوڈان آمد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

سوڈانی حکام آئے دن خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں کو تیز کرنے کے دعوے کرتے رہتے ہیں جبکہ امریکا نے سنہ 1993ء سے سوڈان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دے رکھا ہے جبکہ خرطوم اس الزام کی سختی سے تردید کرتا چلا آرہا ہے۔