.

موصل کی جنگ توقع سے زیادہ پیچیدہ ہوگئی: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں شریک ایک امریکی عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ مغربی موصل کا معرکہ توقع سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوچکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کے خلاف قائم عالمی اتحاد کے بری فوج کے سربراہ جنرل جوزف مارٹن نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی موصل میں دہشت گرد مساجد، گھروں اور اسپتالوں میں چھپ رہے ہیں جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی میں شدید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موصل میں داعش کے خلاف عالمی اتحادی فوج اور عراقی فورسز کی پیش قدمی اہم ہے مگر یہ جنگ حد درجہ پیچیدہ ہوچکی ہے۔

خیال رہے کہ عراقی فوج نے مغربی موصل میں داعش کے خلاف لڑائی جنوری میں شروع کی تھی۔ گنجان آباد شہر سے داعش کو نکالنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر اور داعش کا عراق میں مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

داعش کے خلاف جنگ میں شامل امریکی جنرل جوزف مارٹن نے کہا کہ عراقی فورسز مغربی موصل میں داعش کے خلاف مسلسل پیش قدمی کررہی ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا موصل جنگ آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہوگی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روز مرہ کی بنیاد پر زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر موصل جنگ کے اختتام کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا مشکل ہے۔

جنرل مارٹن نے کہا کہ عراقی فوج نے موصل میں داعش کے ٹھکانوں کا گھیراؤ کیا ہے مگر تنگ گلیوں اور سڑکوں کے باعث ہر جگہ پر بار بار کمک پہنچانا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی دن عراقی فوج زیادہ پیش قدمی کرتی ہے اور کسی روز پیش قدمی برائے نام ہی ہوتی ہے۔

قبل ازیں عراقی فوج کے عہدیداروں نے کہا تھا کہ داعشی شدت پسندوں کی گوریلا کارروائیوں اور گھات لگا کر حملوں کی پالیسی نے مغربی موصل میں پیش قدمی کو سست کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2003ء کے بعد مغربی موصل کی جنگ سب سے بڑا معرکہ ہے۔