ایرانی صدر روحانی کی پاسداران انقلاب پر نکتہ چینی
ایران میں صدارتی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی صدر حسن روحانی اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اپنے اقتصادی ریکارڈ کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایرانی پاسداران انقلاب کی ہمنوا شخصیات کی جانب سے روحانی کے خلاف وسیع پیمانے پر تنقیدوں کے سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے۔
حسن روحانی نے پاسداران انقلاب کا نام لیے بغیر اس پر زور دیا کہ وہ ملک کی سرحدوں پر عسکری اور سکیورٹی امور پر توجہ دے۔ ساتھ ہی ایرانی صدر نے پاسداران انقلاب کو اس امر کا مورود الزام بھی ٹھہرایا کہ امن و امان کے حوالے سے اس کے سکیورٹی برتاؤ کے سبب ملک کی معیشت گر رہی ہے۔
حسن روحانی نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر مبنی اپنی اقتصادی پالیسی اور اس سلسلے میں 140 ارب ڈالر کو ملک میں لانے کی امید کو ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی اس مہم کے مقابل رکھا جس میں خامنہ ای نے تمام چھ امیدواروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار نہ کریں۔
روحانی نے اپنے سابقہ بیانات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ سفارتی سطح پر ایران کی تنہائی کا خاتمہ کریں گے تاہم قدامت پسند ٹولے کا جواب دیتے ہوئے ایرانی صدر نے محض نعروں کے ذریعے مسائل کے حل کو خارج از امکان قرار دیا۔
-
ایران، روس پر انٹرپول کے ذریعےسے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کا الزام
یورپی قانون ساز اسمبلی کے ارکان کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کی حکومتوں کی جانب سے ...
بين الاقوامى -
’ایران اور حزب اللہ اسد رجیم کی درخواست پر شام میں لڑ رہے ہیں‘
بحران کے حل کے لیے ماسکو۔ ریاض اہم کردار ادا کرسکتے ہیں: لافروف
مشرق وسطی -
شامی صدر بشارالاسد کو جانا ہوگا : عادل الجبیر
سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی مداخلت کا خاتمہ چاہتا ہے
بين الاقوامى