شام میں چاروں سیف زونز میں امریکی طیاروں پر بندش ہو گی : روس
روسی خبر رساں ایجنسیوں نے آستانہ میں شامی مذاکرات کے حوالے سے روس کے خصوصی نمائندے الیگزینڈر لاؤرینتیف کے حوالے سے جمعے کے روز بتایا ہے کہ شام میں مجوزہ چار سیف زونز (اِدلب ، حلب ، لاذقیہ اور حمص) میں امریکی جنگی طیاروں اور امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں کا داخلہ بند ہوگا۔
آستانہ میں روسی وفد کے سربراہ کے مطابق جارحیت سے پاک ان علاقوں کے قیام سے متعلق یادداشت پر دستخط کے بعد سے یہاں واشنگٹن کے زیر قیادت اتحاد کے طیاروں کی کارروائیوں پر پابندی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ممانعت یادداشت میں مذکور نہیں ہے تاہم " ان علاقوں میں اب سے بین الاقوامی اتحاد کی ہر طرح کی مہم جوئی پر بندش ہے خواہ وہ پیشگی اطلاع کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر"۔ الیگزینڈر کے مطابق اس سلسلے میں تینوں ضامن ممالک (روس ، ترکی اور ایران) بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں بالخصوص جارحیت روک دیے جانے والے علاقوں کی فضاؤں میں کارروائیوں پر پابندی کے حوالے سے اتحاد کی پاسداری کا جائزہ لیں گے۔
بین الاقوامی اتحاد کے لیے صرف داعش کے ٹھکانے "کُھلے" ہوں گے
روسی وفد کے سربراہ نے واضح کیا کہ بین الاقوامی اتحاد کو شام میں داعش تنظیم کے ٹھکانوں مثلا الرقہ ، فرات کے نزدیک کئی دیہات اور دیر الزور کے علاوہ عراقی اراضی میں تنظیم کے اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت ہو گی۔
فائربندی کی نگرانی کے نظام کے حوالے سے لاؤرینتیف نے اقرار کیا کہ اس حوالے سے کام ابھی پایہ تکیمل کو نہیں پہنچ سکا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ان ممالک کا تعین نہیں ہوا جو اپنے مبصرین کو سیف زونز میں بھیجے گے تاہم انہوں نے جنوبی علاقے میں فائر بندی کی نگرانی کے عمل میں اردن کی شرکت کا عندیہ دیا۔
یاد رہے کہ 3 اور 4 مئی کو قازقستان کے دارالحکومت مِں منعقد ہونے والی "آستانہ 4" بات چیت کے سرپرست تینوں ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کو "جارحیت سے پاک" علاقوں کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مقصد شام میں اِن چار علاقوں کا قیام ہے۔ ادھر بات چیت میں شریک شامی اپوزیشن کے وفد نے جمعرات کے روز ایرانی کردار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اس حوالے سے ایران کے کسی بھی کردار کو مسترد کر دیا ہے۔