ترکی کا ایران کی سرحد پر 70 کلو میٹر دیوار کی تعمیر کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکی نے علاحدگی پسند کرد تنظیم ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کی طرف سے ایران کی سرزمین سے حملوں کی روک تھام کے لیے ایران کی سرحد پر کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ایران اور ترکی کی سرحد پر مجوزہ دیوار 70 کلو میٹر طویل ہوگی۔

انقرہ نے ایران کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا اعلان صدر ایردوآن کے دورہ امریکا کے بعد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترک صدر کو امریکا کی جانب سے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی کلین چٹ ملنے اور واشنگٹن کو شمالی شام میں سرگرم کرد حمایۃ الشعب یونٹس کے جنگجوؤں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے میں ناکامی کے بعد کیا ہے۔ ترکی امریکا پر زور دے رہا ہے کہ وہ شمالی شام میں سرگرم کرد جنگجوؤں کو بھاری اسلحہ فراہم نہ کرے۔

ترک صدر کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایرانی منافع سے زیادہ ترک مفادات کا دفاع کررہے ہیں۔

ایران کے خیال میں سرحد پر کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران شمالی عراق اور شام میں جاری آپریشنز میں ترکی پر دباؤ ڈالنےکے لیے کرد جنگجوؤں کو استعمال کررہا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق جب ترک صدر طیب ایردوآن امریکا کو شام میں کرد جنگجوؤں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے پر قائل کرنےمیں ناکام رہے تو انہوں نے ایران کی سرحد کے ساتھ ساتھ دیوار کی تعمیر اور کرد گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی تیز کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں