.

اھواز میں مسلح افراد کے حملے میں دو ایرانی پولیس افسر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کل سوموار کو ایران کے عرب اکثریتی صوبہ عربستان [خوزستان] کے دارالحکومت اھواز میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو ایرانی پولیس افسر ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ سوموار کو مقامی وقت کے مطابق دن ایک بج کر پانچ منٹ پر اھواز شہر کی مغربی مجاھد کالونی کے اسٹیشن نمبر 22 پر پیش آیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے داخلی سلامتی سے متعلق ادارے کے سربراہ کرنل علی قاسم بور کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو پولیس افسران کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ایران کی ایک دوسری خبر رساں ایجنسی’ایلنا‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ دن ایک بج کر پانچ منٹ مجاھد کالونی کے ایک سیکیورٹی مرکز کے قریب اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے سیکیورٹی سینٹر پردھاوا بول دیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک فرسٹ لیفٹیننٹ علی بخش حسنود اور سارجنٹ عزیزاللہ بہمنی ہلاک ہوگئے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلح افراد پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھائی پائی اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

حملہ آور مزید حملوں کی دھمکیاں دیتے ہوئے اسٹیشن سے بہ حفاظت فرار ہوگئے۔

’البعث بریگیڈ‘ کی تہران کو دھمکی

ادھر دوسری جانب اھواز کے سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں تین نقاب پوش مسلح افراد کو دکھایا گیا ہے۔ یہ تینوں خود کو ’البعث بریگیڈ‘ کے رکن بتاتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ احواز کی آزادی تک کارروائیاں جاری رکھیں گے اورتہران کے خلاف حملے کرتے رہیں گے۔

اگرچہ سماجی کارکنوں نے مذکورہ ویڈیومیں دکھائے گئے افراد ہی کو اھواز میں تازہ حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے تاہم ابھی تک کسی گروپ کی طرف سے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

اھواز میں سرگرم کسی مسلح گروپ نے بھی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی سرکاری رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔