لائبیریا : سینیگال اور اسرائیل کے درمیان "مصالحت"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنیامین نیتنیاہو اور سینیگال کے صدر میکی سیل نے اتوار کے روز دونوں ملکوں کے درمیان بحران کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ بحران کا آغاز دسمبر 2016 میں اُس وقت ہوا جب سینیگال نے سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف ہونے والی رائے شماری کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

فریقین کی جانب سے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا جو لائبیریا میںECOWAS کانفرنس کے ضمن میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد مغربی افریقہ کے ممالک کی اقتصادی تنظیم کی جانب سے کیا گیا۔

نیتنیاہو کے دفتر کی جانب سے موصولہ معلومات کے مطابق جانبین کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے تحت اسرائیلی سفیر کی فوری طور پر سینیگال کے درالحکومت ڈاکار واپسی ہو گی جبکہ سینیگال افریقی وحدت کی تنظیم میں مبصر ریاست کے طور پر اسرائیل کی نامزدگی کی حمایت کرے گا۔

علاوہ ازیں سینیگال اور اسرائیل بحران کے بعد تعطل کا شکار ہو جانے والے مشترکہ منصوبوں اور دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی اور زرعی تعاون کی تجدید کریں گے۔ نیتنیاہو کی جانب سے سینیگال کے وزیر خارجہ کو اسرائیل کے دورے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ یہ دورہ بحران کے سبب اسرائیل نے روک دیا تھا۔

دوسری جانب ایک اعلی سطح کے اسرائیلی ذمے دار کا کہنا ہے کہ اسرائیل آئندہ دنوں میں نیوزی لینڈ کے ساتھ بحران کو ختم کرنے کا اعلان کرے گا۔ یہ بحران بھی سلامتی کونسل میں قرارداد کی حمایت کے سبب پیدا ہوا تھا۔ نیوزی لینڈ کے نئے وزیر خارجہ نے چند ہفتے قبل نیتنیاہو کے بھیجے گئے پیغامات میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ان کا ملک تعلقات کا نیا باب کھولنے کا خواہش مند ہے۔

ادھر نیتنیاہو نے ECOWAS کانفرنس کے دوران مالی کے صدر ابراہيم بوبكار كيتا سے بھی ملاقات کی جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ نیتنیاہو کے دفتر کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان على "تعلقات میں گرم جوشی" پر اتفاق رائے سامنے آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں