.

سینڈل کا نمونہ چوری کیس میں ایوانکا ٹرمپ کی عدالت میں طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کو ایک اطالوی کمپنی کے جوتے کا نمونہ چوری کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پیش ہو کرخود اپنا موقف بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیویارک کی ایک مقامی عدالت کی خاتون جج کیتھرین فورسٹ نے جمعہ کے روز تین صفحات کو محیط ایک فیصلہ صادر کیا جس میں صدر ٹرمپ کی بیٹی جو اپنے والد کی مشیرہ بھی ہیں کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

ایوانکا ٹرمپ پر اٹلی کی ایک مشہور جوتا ساز کمپنی ’ اکواز ورا‘ کے تیار کردہ ‘وائلڈ تھنگ‘ سینڈل کا نمونہ چوری کرکے اسی ماڈل اور رنگ کا سینڈل ’ہیٹی‘ تیار کرکے فروخت کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

اطالوی کمپنی کی طرف سے دائر درخواست میں ٹرمپ کی بیٹی زیرنگرانی کمپنی میں چوری شدہ ماڈل کے مطابق تیار کردہ سینڈل کی کاپی رائیٹ ایکٹ کے تحت فروخت پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ موقف میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ایوانکا ٹرمپ وائیٹ ہاؤس میں بہت زیادہ مصروف ہیں، اس لیے صدر بھی یہ چاہتے ہیں کہ عدالت ان کی بیٹی کو پیشی کے لیے نہ بلائے بلکہ ان کے وکیل کی پیشی کو کافی سمجھے تاہم خاتون جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’اگرچہ مسز ایوانکا کے پاس وقت کی شدید قلت ہے، چونکہ اس کیس میں وہ ذاتی طور پر ملوث ہیں، اس لیے انہیں خود عدالت میں حاضر ہوکر اپناموقف پیش کرنا ہوگا۔ ان کی جانب سے کوئی دوسرا فرد عدالت میں پیش ہوکر بیان نہیں دے سکتا‘۔

خاتون جج نے ایوانکا کی پیشی کے لیے صرف دو گھنٹے کا وقت مانگا ہے، اس کیس پر فوری فیصلے کا امکان ہے۔ ممکنہ طور پرآئندہ اکتوبر میں اطالوی جوتے کا ماڈل چوری کرنے کے کیس کا فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔

اطالوی جوتا ساز کمپنی ’اکواز ورا‘ نے امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایوانکا ٹرمپ کی ایک کمپنی نے اس کے’وائلڈ تھنگ‘ نامی سینڈل کا نہ صرف نمونہ چوری کیا بلکہ اسی رنگ کا سینڈل تیار کرکے اسے فروخت کرنا شروع کیا ہے۔ ایوانکا اور ان کے شریک کار مارک فیشر کا سینڈل کا نمونہ چوری کرنا غیر شفاف اقدام اور کاپی رائیٹ کی خلاف ورزی ہے‘۔