.

’خامنہ ای کی وفات ایران میں نئے انقلاب کا باعث بن سکتی ہے‘

‘سپریم لیڈر کا جانشین ان کا نظریاتی ہم خیال ہو گا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی پیرانہ سالی اور خرابی صحت کے تناظر ان کی ممکنہ رحلت اور نئے سپریم لیڈر کے بارے میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ خامنہ ای کی وفات ایران میں تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے، تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ کا جانشین نظریاتی طور پران کا ہم خیال ہی ہو سکتا ہے۔

’فارن افیئرز‘ میگزین کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای انتقال اقتدار کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں دینے پر مصر ہیں جو عقاید اور نظریات کے اعتبار سے ان کا انتہائی مقرب سمجھا جاتا ہو۔

رپورٹ کے مطابق ایران کا موجودہ سیاسی، سیکیورٹی، اقتصادی اور عسکری ڈھانچہ ایرانی رجیم کی گہری وفاداری پر قائم ہے۔ اگرچہ بہ ظاہر ایرانی رجیم اپنے ماتحت اداروں پر مکمل گرفت کا دعویٰ کرتی ہے مگر اس میں کئی ایک مغالطے بھی موجود ہیں کیونکہ اندر سے یہ نظام کافی حد تک کھوکھلا ہو چکا ہے۔

ایران میں اس وقت دو متوازی سیاسی افکار چل رہے ہیں۔ ایک طرف آیت اللہ خامنہ اور ان کے مقربین ہیں جو ریاست کے کلیدی اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ دوسری طرف اصلاح پسندوں کی طرف سے نمائندگی کرنے والے اعتدال پسند صدر حسن روحانی ہیں۔ اگرچہ وہ نظام میں تبدیلی کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئے اور انہیں تبدیلی کے لیے سنہری موقع بھی ملا، تاہم وہ اس موقع سے خامنہ ای کی رخصتی ہی کی صورت میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

جہاں تک پاسداران انقلاب کا تعلق ہے تو وہ سپریم لیڈر اور صدر کے بعد ملک کا طاقت ور اور مضبوط ادارہ ہے مگر اس کا ابلاغی ونگ مستقبل میں اس ادارے کے کسی سیاسی کردار کے حوالے سے اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔

ماہرین یہ پیشن گوئی بھی کر رہے ہیں کہ سپریم لیڈر کی وفات کے بعد ایران کے ریاستی ادارے اختیارات کے معاملے میں آپس میں متصادم بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سپریم لیڈر کی وفات کے بعد ایران کا سیاسی نقشہ بدل سکتا ہے۔