خامنہ ای تہران میں دہشت گردانہ حملوں پر کیوں خوش ہیں؟

تہران میں دہشت گردی حکومت کے مفاد میں ہے:اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کی قومی مزاحمتی کونسل نے باور کرایا ہے کہ حال ہی میں ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مقبرے کے قریب ہونے والے بم دھماکوں پرایرانی حکومت خوش ہے۔ موجودہ ایرانی رجیم اور سپریم لیڈر حکومت کو موجودہ بحران اور علاقائی و عالمی تنہائی سےنکالنے کا ایک موقع قرار دے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی اپوزیشن کی نمائندہ نیشنل کونسل کے فرانس کے صدر مقام پیرس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ شہریوں کا قتل چاہے اس میں کوئی بھی ملوث ہو قابل مذمت ہے۔ داعش نے پہلی بار ولایت فقیہ کو بڑے پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ داعش نے ایک ایسے وقت میں ایران میں دو اہم مقامات پر دھماکے کیے ہیں جب داعش کے خلاف امریکا، مسلمان اورعرب ممالک پرمشتمل فوجی اتحاد سرگرم ہے۔ یہ اتحاد خطے میں جنگیں بڑھکانے اور دہشت گردی کو ہوا دینے کی ایرانی سازشوں کے خلاف بھی کام کررہا ہے۔ داعش کے خلاف جاری کئی سالہ جنگ میں داعش نے ایران پر حملےنہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب داعش کی جانب سے موجودہ ایرانی سیاسی نظام کے بانی آیت اللہ خمینی کی قبر اور پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب دھماکے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر ایرانی اپوزیشن کی سرکردہ رہ نما اور نیشنل کونسل کی چیئر پرسن مریم رجوی نے تہران میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہناہے کہ داعش کے حملے ایران میں ولایت فقیہ کے مفاد میں ہیں۔ ایرانی رجیم ان حملوں سےفائدہ اٹھا کر خود کو عالمی اور علاقائی تنہائی سے نکالنے کی کوشش کرے گی۔ ان حملوں کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کے سپورٹر خود کو مظلوم اور دہشت زدہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ جلاد خود کو مظلوم باورکرائے گا۔ اس طرح ایرانی دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوگا۔

مریم رجوی نے ایران میں ملائیت پرمبنی سیاسی نظام کو ختم کرنے اور اس کے تمام اداروں کو توڑنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ موجودہ ایرانی نظام سیاست جبر اور تشدد کے بل بوتے پر قائم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں