.

نریندر مودی تین روزہ دورے پر اسرائیل پہنچیں گے

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد پہلے بھارتی وزیر اعظم کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی آج سے اسرائیل کا تین روزہ دورہ کر کررہے ہیں۔ ان کے اس دورے کو تل ابیب اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کے ایک نئے موڑ اور تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ اس اعتبار سے بھی انفرادیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ صہیونی ریاست کا پہلا دورہ ہے۔ اپنے اس دورے میں وہ خلاف روایت صرف اسرائیلی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دو طرفہ معاہدوں کی منظوری کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر کا دورہ کیے بنا واپس لوٹ آئیں گے۔

بھارت میں عوامی اور سیاسی سطح پر نریندر مودی کے دورے کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور سرکردہ مسلمان مذہبی رہ نما اسد الدین اویسی نے نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی اس دورے میں فلسطین پر ناجائز اسرائیلی قبضے کی حمایت کرنے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی تل ابیب کے ہوائی اڈے پر جب منگل کو اتریں گے تو ان کا والہانہ استقبال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم بنجمن نتین یاہو اور ان کی کابینہ وزرا سمیت دسیوں اہم شخصیات ان کے خیر مقدم کے لیے ہوائی اڈے پر موجود ہوں گے۔

اسرائیلی اخبارات کے مطابق اگرچہ وزير اعظم مودی کی طرف سے یہ زور دے کر کہا گیا ہے کہ دفاعی تجارت اس دورے کا کلیدی پہلو نہیں ہے لیکن اس دورے میں کئی دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ اسرائیل بھارت کو میزائل اور ڈرون طیارے سمیت دفاعی ساز وسامان فراہم کرنے والا اہم ملک ہے.

کچھ عرصے پہلے تک ان دفاعی سودوں کو راز میں رکھا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں اور گذشتہ پانچ برس میں اسرائیل نے ہر برس اوسطاً ایک ارب ڈالر کے ہتھیار بھارت کو فروخت کیے ہیں۔

ہتھیاروں کی خرید دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کا سب سے اہم پہلو رہا ہے۔ اسرائیل، حالیہ برسوں میں امریکہ کے بعد بھارت کو ہتھیار سپلائی کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ مودی کے دورے سے قبل گذشتہ اپریل میں بھارت نے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹری کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کے سودے کا معاہدہ کیا ہے۔

بھارت کے چار بحر ی جنگی جہازوں پر براک میزائل نصب کرنے کا بھی 630 ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے۔ ان معاہدوں کو اسرائیل کی دفاعی تاریخ کی سب سے بڑی فروخت بتایا جا رہا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے۔ سنہ 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی ایک اسپیس انڈسٹری کمپنی کے وائس چیئرمین ایلی الفاسی کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی بھارت کو ڈرون طیارے، راڈار، جدید مواصلات آلات اور بھارت میں انٹرنیٹ کے شعبے میں استعمال ہونے والے آلات فراہم کررہی ہے۔ توقع ہے کہ مودی کے تازہ دورہ اسرائیل کے دوران دنوں ملکوں میں دفاعی شعبے میں تاریخ ساز سمجھوتے کیے جائیں گے۔