.

امریکا کا شام کے بارے میں موقف اب زیادہ حقیقت پسندانہ ہے: صدر پوتین

ٹی وی پر نظر آنے والے ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی زندگی میں بہت مختلف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں امریکا کا شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں موقف اب ’’زیادہ مثبت اور حقیقت پسندانہ‘‘ ہوگیا ہے۔

روسی صدر نے جرمن شہر ہیمبرگ میں جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی بالمشافہ ملاقات کے ایک روز بعد کہا ہے :’’ مجھے بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکا کا شام کے بارے میں موقف زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگیا ہے۔اب یہ مفاہمت پائی جاتی ہے کہ اگر ہم اپنی کوششوں کو مربوط بنائیں تو ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے امریکی صدر سے اپنی پہلی ملاقات کے بعد اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور روس کے درمیان تعاون میں بہتری آئے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حقیقی زندگی میں بہت ہی مختلف ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آپ جس ٹرمپ کو ٹی وی پر دیکھتے ہیں ،وہ حقیقی ٹرمپ سے بہت مختلف ہے۔یہ یقین کرنے کا ہر جواز موجود ہے کہ ہم کم سے کم ضرورت کے مطابق جزوی طور پر تعاون کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے‘‘۔

روسی صدر نے کہا کہ ان کی بات چیت میں ایک بہت اہم موضوع موسمیاتی تبدیلی تھا اور یہاں جرمن صدارت ایک مفاہمتی سمجھوتے تک پہنچے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور جی 20

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 20 سربراہ اجلاس کے دوران میں موسمیاتی تبدیلی اور تجارت سے متعلق بنیادی رعایتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ہیمبرگ میں جی 20 کے دوروزہ اجلاس کے بعد جاری کردہ حتمی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے رکن ممالک نے امریکا کے 2015ء میں طے شدہ پیرس معاہدے سے انخلاء کے فیصلے کا نوٹس لیا ہے۔اس معاہدے کے تحت دنیا کے بڑے صنعتی ممالک نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے میں ممالک کو فوسل ایندھن کا استعمال جاری رکھنے کی بھی اجازت دی گئی تھی ۔اس ایندھن کے استعمال ہی سے عالمی حدت میں اضافہ ہورہا ہے۔حتمی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر انھیں فوسل ایندھن کے صاف اور موثر استعمال میں مدد دے گا۔اس کے علاوہ وہ قابل تجدید اور توانائی کے دوسرے صاف ذرائع کو بروئے کار لانے میں بھی مدد دے گا۔

اس اعلامیے میں پہلی مرتبہ ممالک کے اپنی مارکیٹوں کے تحفظ کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے اور وہ قانونی تجارتی دفاعی آلات کے ذریعے ایسا کرسکتے ہیں۔